1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’’پاکستان اور بھارت مختلف ضرور ہیں، مگر ساتھ چل سکتے ہیں‘‘

موسیقار ذیشان بھاگوادی کے بقول 1947ء میں بھارت میں ان کے دادا کی دکان نذز آتش کر دی گئی تھی۔ ذیشان نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ کس طرح اُن کے خاندان اور ثقافتی ورثے نے اُن کے سروں میں احساس و جذبہ پیدا کیا۔

ذیشان بھاگوادی یا ذیشان بی سے ڈی ڈبلیو نے پوچھا کہ ایک ایسے امریکی، جس کے والدین بھارت سے ہجرت کر کے شکاگو میں آباد ہوئے تھے، کے لیے ریڈکلف لائن (پاکستان اور بھارت کو الگ کرنے والی سرحدی لکیر) کس اہمیت کی حامل ہے؟ ذیشان بی نے کہا کہ تقسیم ہند کے وہ دن بہت اہم تھے، ’’میرے نانا اور نانی کو جنوبی ہندوستان میں ہندوؤں کی اکثریت والی رياست کے ايک شہر حیدرآباد میں بہت سے تغیر دیکھنے کو ملے۔ اگرچہ رياستی سطح پر ہندو اکثريت ميں تھے تاہم حيدرآباد کو شہری مسلمانوں کے گڑھ کے طور پر بھی ديکھا جاتا تھا۔ وہاں ان کے خاندان منقسم ہو گئے اور بہت سے دوست اور احباب پاکستان چلے گئے۔ مگر وہ وہیں مقیم رہے۔ وہاں ان کا گھر تھا، ان کا شہر تھا اور میرے دادا کا راشن کا اسٹور تھا، جو انہوں نے خود بچت کر کر کے بنایا تھا۔ مگر ان کے وہاں قیام کے ظاہر ہے کچھ منفی نتائج بھی تھے۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا، ’’میں اپنے دادا سے تب کے بھارت کی زندگی کی بابت پوچھا کرتا تھا مگر کبھی تقسیم پر بات نہیں ہوئی۔ جب میرے دادا سن 2012 میں امریکا میں فوت ہوئے، تو تب مجھے معلوم ہوا کہ بات کیوں نہیں ہوئی۔ میں اپنی دادی سے مسلسل پوچھتا رہا اور آخر انہوں نے صرف ایک بات مجھے بتایا۔ آزادی کی ہمارے پڑوس میں چند یا شاید کوئی ایک ہندو مذہبی تشدد میں مارا گیا تھا، مگر اس کی وجہ سے مذہبی بنیادوں پر اچانک کشیدگی بہت بڑھ گئی۔ ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے وہ ایک دوسرے کے بچوں تک کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے، مگر اب سب کچھ بدل چکا تھا۔ وہ بہت برا دن تھا۔ ایک مشتعل جتھے نے تمہارے دادا کا اسٹور جلا دیا تھا۔‘‘

Zeshan B- Pressebilder für Vetted (Diana Quinones Rivera Photography )

ذیشان بھاگوادی ‌‌ذیشان بی کے نام سے مشہور ہیں

ذیشان بی نے بتایا کہ شاید یہی دکھ تھا، جو ان کے دادا اپنے ساتھ قبر تک میں لے گئے۔ ’’میں نے اپنی والدہ کو بتایا تو وہ بھی رونے لگیں۔ میرے دادا کے دس بچے تھے اور ان میں سے کسی کو بھی اس واقعے کا علم نہیں تھا۔ میں نے دادی سے پوچھا کہ انہوں نے کسی کو کبھی کیوں نہیں بتایا، تو وہ کہنے لگیں کہ اس کا سوچ کر بھی دکھ ہوتا ہے۔ ہم نے ان سب ٹوٹی ہوئی چیزوں کو جوڑ کر زندگی دوبارہ شروع کی تھی۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے اس سوال پر کہ دادا کی اس کہانی نے ان پر کیا اثرات ڈالے، ذیشان بی نے کہا، ’’پہلے تو میں اداس ہو گیا کہ جس شخص سے اتنی محبت کرتا تھا، اسے چوبیس برس کی عمر میں اس طرز کا بھیانک واقعہ دیکھنا پڑا، مگر بڑی سطح پر دیکھوں تو دکھ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مذہب کے نام پر کس حد تک گھناؤنے کام کر لیتے ہیں، حالاں کہ مذاہب تو امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں۔ اس سے تقسیم کے اس دکھ کا بھی احساس ہوتا ہے، جو تقسیم ہند کے وقت ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کو اٹھانے پڑے۔‘‘