1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور بھارت بات چیت جاری رکھیں، جرمن وزیر خارجہ

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے پاکستان اور افغانستان کو قیام امن کے تمام رکاوٹیں دور کر کے بات چیت جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

پیر 31 اگست کو اسلام آباد میں وزیراعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں بہت سے ممالک دہشت گردی سے متاثر ہیں اور وہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ پاکستان نے گزشتہ دنوں اور ہفتوں میں دہشت گردی کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’بے شک دہشت گردی کے خلاف اس جدوجہد اور جنگ کو فتح کا تاج اسی وقت پہنایا جا سکتا ہے جب بین الاقوامی برادری اس جدوجہد کی کھل کر اور مکمل حمایت کرے۔‘‘

جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں خطے کی ڈیڑھ سو سالہ پیچیدہ تاریخ کا علم ہے جس کا پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بھی اثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی حوصلہ افزائی کر کے بات چیت کے مثبت راستے پر ڈالنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہییں۔

پاکستان میں فوجی عدالتوں کے قیام اور سزائے موت پر سے پابندی کے خاتمے کے بارے میں ایک سوال پر جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’ہم نے پاکستان کی اندرونی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ فوجی عدالتوں کے قیام کا ذکر کیا اور دوسری جانب پھانسی کی سزا پر پابندی کے خاتمے سے متعلق بھی کھل کر بات کی اور میں نے یہ حقیقت چھپائی نہیں کہ ہم جرمن تاریخی پس منظر میں سزائے موت کے خلاف ہیں۔‘‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ صورتحال پر جرمن وزیرخارجہ نے کہا کہ انہیں پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات میں تعطل اور پاکستان کی طرف سے افغان مفاہمت کے لیے شروع کیے گئے مذاکرات میں تعطل میں ایک مماثلت نظر آتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت بات چیت وقتی طور پر معطل ہوئی ہے ہمیشہ کے لیے نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کی وجہ سے ایسی گہری وجوہات ہیں جنہیں مذاکرات میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی فوری طور پر ان کا حل نکالا جا سکتا ہے۔‘‘

انہوں نے پاکستان اور بھارت پر مسائل کے حل کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا۔

پاکستان کی طرف سے شدت پسندوں اور خصوصاﹰ حقانی نیٹ ورک کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اشٹائن مائر نے کہا، ’’میرے خیال میں حقانی نیٹ ورک پر اس فوجی کارروائی کے نتائج کے حوالے سے اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن مجھے پاکستانی مذاکرات کاروں نے بتایا ہے کہ حقانی نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے۔‘‘

جرمنی، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے، سرتاج عزیز

جرمنی، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے، سرتاج عزیز

پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے جرمن وزیر خارجہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ جرمنی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے اور کئی سالوں سے جرمنی پاکستان کا دنیا اور یورپ میں بڑا پارٹنر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم تین ارب ڈالر ہے جس میں مزید اضافے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف شعبوں میں جرمن سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ذکر کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ فوجی آپریشن ضرب عضب نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی برادری شدت پسندی کے خاتمے کی حکمت عملی کے لیے پاکستان کا ساتھ دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ باہمی برابری اور احترام کی بنیاد پر تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے خاتمے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’حقانی نیٹ ورک کے خاتمے کا انحصار زمینی صورتحال کا جائزہ لینے پر ہے لیکن شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کی دیسی ساختہ بم تیار کرنے کی فیکٹری اور مواصلاتی نظام سمیت دیگر انفراسٹرکچر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اور حقانی نیٹ ورک کا یہاں جو کچھ رہ گیا ہے وہ اس کے مقابلے میں بہت کم ہے جو ان کے ساتھ افغانستان میں ہے۔‘‘

سرتاج عزیز نے افغانستان کا نام لیے بغیر کہا کہ دوسری جانب یہ تاثر ہے کہ حقانی نیٹ ورک یہاں سے براہ راست افغانستان میں معاملات کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہمارے اندازے کے مطابق حقانی نیٹ ورک کی پاکستان کے مقابلے میں اسی سے نوے فیصد زیادہ صلاحیت افغانستان میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کر رہا ہے۔

جرمن وزیرخارجہ نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف اور بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔