1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور ایران کا دہشت گردی کے خلاف زیادہ تعاون پر زور

ایران کا دورہ کرنے والے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور تہران کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آپس میں اور زیادہ تعاون کرنا چاہیے۔

default

پاکستانی وزیر اعظم گیلانی ایرانی صدر احمدی نژاد سے ہاتھ ملاتے ہوئے

خبر ایجنسی اے ایف پی نے تہران سے اپنی رپورٹوں میں ایرانی صدر کی سرکاری ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم ان دنوں ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تہران میں ہیں، جہاں صدر احمدی نژاد کے ساتھ ایک ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ان دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اور بھی قریبی تعاون پر زور دیا۔

اس دوران پیر کے روز ہونے والی ملاقات میں ایرانی صدر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تقاضا ہے کہ قوموں کے درمیان حکومتی سطح پر اور زیادہ اشتراک عمل دیکھنے میں آئے۔ محمود احمدی نژاد کے مطابق، ’ہمارے ملکوں کے دشمن اور خطے کی چند ریاستیں ایسے عدم استحکام کو ہوا دینا چاہتے ہیں، جو علاقے کی ریاستوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو‘۔

ایرانی صدر کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس ملاقات کے موقع پر کہا کہ پاکستان اور ایران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں زیادہ مربوط اور گہرے تعاون کے ذریعے اس بارے میں اپنی کاوشوں کی کامیابی کو یقینی بنا سکتے ہیں، ’پاکستان کسی بھی دوسرے ملک کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ اسلام آباد کے تہران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو کسی بھی طرح کوئی نقصان پہنچا سکے۔‘

NO FLASH Gipfel im Iran Treffen Afghanistan Iran Pakistan

پاکستان، ایران اور افغانستان کے صدور تہران میں

فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گردی کے ‌خلاف جنگ میں قریبی تعاون دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے دوروں کا تبادلہ بھی کافی تواتر سے ہو رہا ہے۔

گزشتہ جون میں تہران میں انسداد دہشت گردی کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی ہوئی تھی، جس میں پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور ان کے افغان ہم منصب حامد کرزئی نے بھی شرکت کی تھی اور تب اسلام آباد، کابل اور تہران کے مابین یہ اتفاق رائے بھی ہو گیا تھا کہ یہ تینوں ملک مل کر دہشت گردی اور عسکریت پسندی کا مقابلہ کریں گے۔

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے موجودہ دورہء ایران سے قبل پاکستانی صدر آصف زرداری نے بھی جون اور جولائی میں دو مرتبہ ایران کا دورہ کیا تھا جبکہ ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صالحی بھی دو روز کے لیے ابھی گزشتہ ہفتے ہی پاکستان گئے تھے تاکہ اسلام آباد حکومت کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی موضوعات پر تبادلہ خیال کر سکیں اور دو طرفہ بنیادوں پر مزید تعاون کو یقینی بنایا جا سکے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس