1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور ایران خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں : پیلن ، بائڈن

ری پبلکن اور ڈیموکریٹ ناب صدارتی امیدواروں کے مابین واحد نائب صدارتی نشریاتی مکالمےمیں دونوں نے متفقہ طور پر کہا کہ غیر مستحکم پاکستان اور ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

default

جو بائڈن اور سارہ پیلن

امریکہ مییں نائب صدراتی انتخابات کے سلسلےمیں ڈیموکریٹ اورری پبلکن جماعتوں کےامیدواروں نے سینٹ لوئس میں اپنے نشریاتی مکالمے میں متفقہ طور پراس بات پر زور دیا کہ غیر مستحکم پاکستان اورایران کاجوہری ہتھیارحاصل کرنا انہتائی خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی موجودہ صورتحال میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے وہاں جمہوری حکومت کے قیام کو خوش آئند قرار دیا۔ ایران کے متنازعہ جورہ پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے سارہ پیلن نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ری پبلکن پارٹی کی خاتون نائب صدارتی امیدوار سارہ پیلن نے کہا کہ اگر اسامہ بن لادن کے پاکستان میں پناہ لینے کی باتیں سچ ثابت ہو جاتی ہیں تو امریکہ پاکستان میں ان کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے سے ہر گز نہیں چوکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغانستان میں مزید امریکی فوجی بھیجے جائیں تاکہ وہاں طالبان باغیوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔ اس دوران انہوں نے عراق کے بارے میں اپنی پارٹی پالیسی کا دفاع بھی کیا۔

اپنے نشریاتی مکالمے میں سارہ پیلن نے کہا کہ مشرق وسطی میں قیام امن کے لئےآزاد فلسطین ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ امریکہ میں جاری موجودہ مالیاتی بحران پر بات کرتے ہوئے پیلن نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ امددی پیکج کی منظوری سے اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں امریکی ٹیکس دہندگان پر کم سے کم بوجھ ڈالنا چاہئے۔

دوسری طرف اس مکالمے کے دوران اگرچہ ڈیموکریٹ نائب صدارتی امیدوار جو بائڈن نے پاکستان اور ایران کے حوالے سے اپنی حریف سارہ پیلن سے اتفاق رائے کیا تاہم انہوں نے کہاکہ ان کے صدارتی امیدوار بیراک اوباما نے ہمیشہ ہی پاکستان اور افغانستان پر زیادہ توجہ دی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں پاکستان ایٹمی طاقت رکھنے والا ایک ملک ہے جو فوری تتوجہ کا متقاضی ہےکیونکہ پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل اور بحیرہ روم تک وار کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر امریکہ پر دوبارہ کوئی بھی دہشت گردانہ حملہ ہوا تو اس حملے کی منصوبہ بندی پاکستان اور افغانستان کے شورش زدہ علاقوں سے ہی ممکن ہو سکے گی۔

انہوں نے پاکستان کی طرف موجودہ امریکی پالیسی میں تبدیلی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری مدد دینے کے علاوہ وہاں معاشی اور معاشرتی استحکام کے لئے بھی خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ اس حوالے سے بائڈن نے پاکستان میں شرح تعلیم میں اضافے لانے پر زور دیا۔