1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان اور انگلینڈ ایک روزہ سیریز میں آمنے سامنے

کانٹے دار ٹیسٹ سیریز میں اپنا لوہا منوانے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ون ڈے سیریز میں ایک اور سخت چلینج کا سامنا ہے۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چار ایک روزہ میچوں کی سیریز بدھ کو عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں شروع ہو رہی ہے۔ چار ہفتے پہلے شیخ زید اسٹیڈیم سے ہی شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز کی ابتدا میں ناکامی سے بال بال بچنے کے بعد پاکستان نے انگلینڈ کو دو صفر سے مات دی۔ لیکن اب فارمیٹ کے ساتھ گارڈ کی بھی تبدیلی ہوچکی ہے۔ مصباح اور کک اپنے ٹیسٹ اسپیسلسٹ کے ساتھ اپنے اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کی باگ ڈوراظہر علی اورانگلینڈ کی اوین مورگن کے ہاتھ میں ہے۔

پاکستان نے سری لنکا اور زمبابوے کو حالیہ مہینوں میں ہراکراپنا ایک روزہ اعتماد بحال کیا جب کہ انگلینڈ نے ورلڈکپ فائنلسٹ آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ سے دس معرکوں کا انجام 5-5 پرکیا۔

کوچ پیٹر مورز کی سبک دوشی کے بعد کھیل کھیلنے کا انداز انگلینڈ کی نوجوان ون ڈے ٹیم کو بھایا ہے۔ اوپنر الیکس ہیلز اور جیسن رائے پاور پلے میں حملہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں، جس کے بعد روٹ اور ٹیلر جیسے مستند بیٹسمین اسکور بورڈ کو متحرک رکھتے ہیں۔ انگلینڈ کی بیٹنگ میں ترپ کا پتہ خود کپتان مورگن ہیں جودو سفید گیندیں نرم ہونے کے بعد بھی درمیانی اوراختتامی اوورز میں چوکے چھکے لگانے کی قوت سے مالا مال ہیں۔

انگریز ٹیم کے پندرہ میں سے چودہ کھلاڑیوں کی عمر تیس سال سے کم ہے لیکن دوسری طرف پاکستان ٹیم میں حیران کن طور ون ڈے کیریر میں بری طرح ناکام رہنے والے یونس خان کی واپسی ہو رہی ہے۔ یونس اسی ماہ کے آخر میں اپنی اڑتیسویں سالگرہ منانے والے ہیں۔ یونس کی ون ڈے ٹیم میں واپسی کا دفاع کرتے ہوئے پاکستانی کپتان اظہرعلی کا کہنا تھا یونس ایک لیجنڈ کھلاڑی ہیں اوران کی واپسی سے پاکستان کو یہ سیریز جیتنے میں مدد ملےگی۔ اظہرعلی نے یہ تاثر رد کردیا کہ یونس کی سلیکشن سے پاکستان ٹیم کا کمبینیشن متاثر ہوگا۔

پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں ریکارڈ زیادہ متاثرکن نہیں ہے۔ اس نے صرف 2000اور 2005کی ہوم سیریز میں انگریز ٹیموں کو ہوم مقابلوں میں شکست سے دور چارکیا۔ کپتان اظہرعلی نے ابوظبی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’خود سے اچھی رینکنگ کی ٹیم سے کھیل کر پاکستان کے پاس اپنی رینکنگ بہتر بنانے کا بھی موقع ہے۔‘‘

پاکستانی ٹیم میں احمد شہزاد، محمد رضوان اور انورعلی کی شمولیت متوقع ہے۔ دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم میں زخمی فاسٹ باولر اسٹیوفن اورمارک ووڈ کی جگہ ریس ٹوپلی اور کرس جورڈن کو شامل کیا گیا ہے۔ وکٹ کیپر جیمز بٹلر اور جانی بییر سٹو کے درمیان ٹائی ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم میں زیادہ ترآل راونڈ کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور ٹوپلی کے علاوہ تمام بولرز میں بھی بیٹنگ کی صلاحیت موجود ہے۔ انگلش کپتان ایون مورگن نے کہا کہ پاکستان ٹیم کی ریورس سوئنگ اور اسپن کی وجہ سے سخت مقابلہ ہوگا۔

پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیموں نے منگل کی دوپہر شیخ زید اسٹیڈیم میں نیٹ پریکٹس کی۔ دونوں ٹیموں نے اپنے بلے بازوں کو نیٹ پریکٹس کرانے کے لیے مقامی بولرز کی خدمات معاوضے پر حاصل کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ انگلینڈ نے نیٹ بولر کو ڈیڑھ سو درہم اور پاکستان نے پچاس درہم معاوضہ ادا کیا۔

ابوظبی میں منگل کو مطع صاف رہا لیکن بدھ کو عرب امارات میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔