1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان اور انگلینڈ اب اوول میں آمنے سامنے

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان بدھ سے اوول میں چار میچوں کی ٹیسٹ سیریز کا فیصلہ کُن میچ شروع ہو رہا ہے۔ انگلینڈ کو سیریز میں فی الحال دو صفر کی برتری حاصل ہے۔

default

انگلینڈ کو سیریز میں فی الحال دو صفر کی برتری حاصل ہے

پاکستانی بورڈ کے ذرائع کے مطابق تیسرے ٹیسٹ میں عمر امین کے بدلے بیٹسمین یاسر حمید اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہوگی کہ تیسرا ٹیسٹ میچ جیت کر سیریز میں واپسی کی جائے۔ 32 سالہ یاسر حمید اب تک 23 ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں، جن میں انہوں نے تقریباً 35 کی اوسط سے 1450 رنز بنا رکھے ہیں۔ حمید دو ٹیسٹ سنچریاں اور آٹھ نصف سنچریاں بنا چکے ہیں۔

Mohammad Yusuf

انگلینڈ کے خلاف یوسف کا ٹیسٹ ریکارڈ شاندار ہے

یاسر حمید کے علاوہ سینیئر بلے باز محمد یوسف کی بھی ٹیم میں واپسی یقینی ہے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اپنا فیصلہ واپس لینے والے یوسف کو دوسرے ٹیسٹ میچ کے لئے ہی انگلینڈ بلایا گیا تھا تاہم آخری لمحات میں کم میچ پریکٹس کے باعث انہیں ٹیم میں جگہ نہیں مل پائی تھی۔ انگلینڈ کے خلاف یوسف کا ٹیسٹ ریکارڈ شاندار ہے۔

پاکستانی ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ نے سیریز کے تیسرے ٹیسٹ کو ’’مَسٹ وِن‘‘ میچ قرار دیا ہے۔

ایسا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ محمد یوسف شعیب ملک کے بدلے جبکہ یاسر حمید آوٴٹ آف فارم عمر امین کی جگہ ٹیم میں شامل ہوں گے تاکہ کمزور مڈل آرڈر کو تھوڑا سہارا مل سکے۔

Pakistan Kricket Team in England

سلمان بٹ دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے وکٹ کیپر میتھ پرائر کو رَن آوٴٹ کرتے ہوئے

برمنگھم ٹیسٹ میں پاکستان کی طرف سے 88 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے والے وکٹ کیپر بیسٹمین ذوالقرنین حیدر زخمی ہوگئے ہیں، جس کے باعث کامران اکمل کی ٹیم میں واپسی یقینی بن گئی ہے۔ پاکستان کو فاسٹ بولر عُمر گل کے زخمی ہونے کے باعث ایک اور دھچکہ پہنچا ہے۔ عمر گل کی جگہ فاسٹ بولر وہاب ریاض ٹیم میں شامل کئے جا سکتے ہیں۔

پاکستانی سلیکٹرز نے تجربہ کار مگر آوٴٹ آف فارم وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل کو انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لئے ڈراپ کیا تھا لیکن کپتان سلمان بٹ کے مطابق اکمل کو صرف آرام دیا گیا تھا۔

انگلینڈ نے ٹرینٹ برج میں پاکستانی ٹیم کو 354 رنز سے جبکہ برمنگھم ٹیسٹ میں نو وکٹوں سے شکست دی تھی تھا تاہم اسی نا تجربہ کار پاکستانی ٹیم نے ہیڈنگلے میں آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کو تین وکٹوں سے ہرایا تھا۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی/خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس