1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان اور امریکہ: 11/9 کے دس سال بعد

گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کے دس سال بعد امریکہ اور پاکستان میں مبصرین اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان حملوں کے بعد شروع کی جانے والی دہشت گردی کی جنگ نے دونوں ملکوں کی عمومی زندگی کو کس طرح متاثر کیا ہے۔

default

اس بات پر بیشتر مبصرین کا اتفاق ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں کے دس سال بعد پاکستان اور امریکہ میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ سکیورٹی پر اٹھنے والے ا‌خراجات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے دونوں ملکوں کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

حفاظتی نقطہ نظر سے اٹھائے جانے والے اقدامات نے ماضی کی کئی شہری آزادیوں کو قدرے محدود کر دیا ہے۔ فضائی سفر سے لے کر اہم عمارتوں میں رسائی تک لوگوں کو سخت تلاشیوں کے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ وہ پیسے، جنہیں عوامی بہبود کے منصوبوں پر خرچ ہونا چاہیے تھا، جنگوں پر خرچ ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے عوام میں اب بھی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔

سکیورٹی پر اٹھنے والے ا‌خراجات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے امریکہ کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے

سکیورٹی پر اٹھنے والے ا‌خراجات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے امریکہ کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے

دونوں ملکوں کے تجزیہ نگار اس سوال پر بھی غور کر رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کی نظر نہ آنے والے دشمن کے خلاف جاری یہ جنگ کب ختم ہوگی۔

حال ہی میں امریکہ کے ایک مطالعاتی دورے سے واپس آنے والے ایک پاکستانی صحافی عطرت بشیر کہتے ہیں کہ امریکی شہری ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں کے دس سال بعد بھی اس دکھ کو نہیں بھولے ہیں۔ ان کے بقول گراؤنڈ زیرو پر بنائی جانے والی ایک یاد گاری عمارت میں نائن الیون کے حوالے سے نشانیوں کو محفوظ کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ نیوزیم نامی ایک عجائب گھر میں اس سانحے کی تمام آڈیو، ویڈیو اور مطبوعہ اخباری کوریج کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ واشنگٹن کے اس عجائب گھر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے والے بالائی حصے کو بھی محفوظ کر کے اس کی نمائش کی جا رہی ہے۔

’’ امریکہ کے اندر فضائی سفر کے لیے اب بھی لوگوں کو تلاشی کے لمبے چوڑے مراحل سے گزارا جاتا ہے‘‘

’’ امریکہ کے اندر فضائی سفر کے لیے اب بھی لوگوں کو تلاشی کے لمبے چوڑے مراحل سے گزارا جاتا ہے‘‘

پشاور سے تتعلق رکھنے والے ایک سینئر صحافی ریاض خان داؤد زئی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں ایک معمول بنتی رہی ہیں۔ آج کل بھی پشاور میں ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کی اطلاعات ہیں۔ ان کے بقول امریکہ میں نائن الیون کے بعد اگرچہ دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا لیکن پھر بھی وہاں کئی علاقوں میں کسی دہشت گردانہ واقعے کا انجانا سا خوف ضرور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ریاض داؤد زئی بتاتے ہیں کہ امریکہ میں شہریوں کی سلامتی کے لیے وارننگز جاری کی جاتی ہیں۔ امریکہ کے اندر فضائی سفر کیلئے اب بھی لوگوں کو تلاشی کے لمبے چوڑے مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ کئی عجائب گھروں اور اہم دفتروں کے علاوہ اگر کوئی امریکی مجسمہ آزادی بھی دیکھنا چاہے تو اسے بھی اپنی بیلٹ اور جوتے اتار کر سکیننگ مشینوں سے گزرنا پڑتا ہے اور بار بار تلاشی دینا پڑتی ہے۔

انگریزی اخبار دی نیوز کے بزنس ایڈیٹر عامر ضیاء صدیقی کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے پاکستان میں تو سرمایہ کاری کا عمل بہت بری طرح متاثر ہوا ہے لیکن ادھر امریکہ نے بھی عراق اور افغانستان میں جو بھاری جنگی اخراجات کیے ہیں، اس سے اس کی بھی اقتصادی مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں۔ قرضوں کا حالیہ بحران اور اس کی عالمی اقتصادی درجہ بندی میں حالیہ کمی سے بھی امریکی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بیروز گاری اور مہنگائی وہاں بڑے عوامی مسائل ہیں۔

’’اگر کوئی امریکی مجسمہ آزادی بھی دیکھنا چاہے تو اسے بھی اپنی بیلٹ اور جوتے اتار کر سکیننگ مشینوں سے گزرنا پڑتا ہے اور بار بار تلاشی دینا پڑتی ہے‘‘

’’اگر کوئی امریکی مجسمہ آزادی بھی دیکھنا چاہے تو اسے بھی اپنی بیلٹ اور جوتے اتار کر سکیننگ مشینوں سے گزرنا پڑتا ہے اور بار بار تلاشی دینا پڑتی ہے‘‘

تابندہ نامی ایک پاکستانی مسلمان امریکی لڑکی نے بتایا کہ انہیں بعض اوقات اپنے حجاب کی وجہ سے سکیورٹی کے سخت مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ انہیں حیرت ہے کہ فضائی سفر کے دوران "رینڈم سلیکشن" کے نتیجے میں ہمیشہ وہی کیوں تفصیلی تلاشی کے لیے منتتخب ہوتی رہی ہیں۔ ان کے بقول اب صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کی جارج واشنگن یونیورسٹی میں جرنلزم پروگرام کے ڈائریکٹر آموس گیلب نے بتایا، یہ درست ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکی شہریوں کو حفاظتی اقدامات کی وجہ سے کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن ان کے بقول امریکی آئین میں دی گئی آزادیوں پر کوئی بڑی قدغن دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ ان کے بقول امریکہ میں گزشتہ دَس برسوں کے دوران رائے عامہ میں اور ذرائع ابلاغ میں خود سے تبدیلیاں آئی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی آزادی کو حکومت کی طرف سے پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سلیم شہزاد سمیت کئی صحافی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی رپورٹنگ کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس