1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات محدود ہو جائیں گے، رپورٹ

امریکی حکام نے خیال ظاہر کیا ہے کہ واشنگٹن اور اسلام آباد حکومتوں کے باہمی تعلقات کو انتہائی نقصان پہنچ چکا ہے اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے اتحاد محدود پیمانے پر ہی قائم رہ سکتا ہے۔

default

امریکی حکام کے حوالے سے یہ بات ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی اتوار کی اشاعت میں بتائی ہے۔ اس رپورٹ میں نامعلوم پاکستانی اور امریکی عہدے داروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تعلقات خراب ہونے سے پاکستان میں موجود اسلام پسندوں کے خلاف حملے کرنے اور پاکستان کے راستے افغانستان میں تعینات غیرملکی افواج کو رسد پہنچانے کی اہلیت پر فرق پڑے گا۔

گزشتہ ماہ افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں فوجی چوکیوں پر نیٹو کے حملے میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں سے پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات پر کاری ضَرب لگی ہے۔

ان حملوں کے حوالے سے امریکہ اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی مشترکہ تفتیشی رپورٹ کے مطابق تباہ کن غلطیوں اور رابطوں کی خرابی کے باعث ہلاکتیں ہوئیں۔ پاکستان اس رپورٹ کے نتائج مسترد کر چکا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اپنے ڈرون حملے محدود کرنے ہوں گے، پاکستان میں اپنے انٹیلی جنس اہلکاروں اور فوجیوں کی تعداد کم کرنی ہو گی اور پاکستان کے راستے رسد افغانستان پہنچانے پر زیادہ رقوم خرچ کرنا ہوں گی۔

اس اخبار کے مطابق پاکستان کے لیے امریکی امداد بھی بڑی حد تک کم ہو جائے گی۔

NO FLASH Pakistan NATO Konvoi

’پاکستان کے راستے رسد بھی مہنگی پڑے گی‘

ٹائمز نے ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’ہم نائن الیون کے بعد کے عرصے کا باب بند کر چکے ہیں۔ پاکستان نے ہمیں واضح طور پر بتا دیا ہے کہ وہ تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لے رہے ہیں۔ ‘‘

امریکی حکام کے مطابق یہ تعلقات کسی نہ کسی شکل میں باقی رہیں گے لیکن ان کے خدوخال اس وقت تک واضح نہیں ہوں گے، جب تک پاکستان اپنا جائزہ مکمل نہیں کر لیتا۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی فورسز نے ایک خفیہ آپریشن کے دوران پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ہلاک کر دیا تھا، جس کے وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں پہلے سے ہی تلخی چلی آ رہی تھی۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس