پاکستان اور افغانستان کے سرد تعلقات میں امید کی کرن | حالات حاضرہ | DW | 05.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور افغانستان کے سرد تعلقات میں امید کی کرن

افغان صدر محمد اشرف غنی نے عندیه دیا ہے که جلد پاکستان کے ساتھ موجوده مشکل صورتحال کا حل نکال لیا جائے گا اور دونوں ممالک کے باشندوں کی زندگیوں میں بہتری کے لیے اقدامات اٹهائے جائیں گے۔

Afghanistan Konferenz Sartaj Aziz

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجه امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز کابل کانفرنس میں شریک ہیں

پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات میں سرد مہری کے تناظر میں یه صدر غنی کا پہلا بیان ہے، جو حالات میں بہتری کی گنجائش کی طرف اشاره کرتا ہے۔ افغان صدر نے یه بات صدارتی محل میں جاری سینیئر آفیشلز میٹنگ SOM کے دوران کہی، جس میں افغان حکومت کے اہم عہدیداروں سمیت بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے نمائندے بهی شریک ہیں۔

گزشته روز پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجه امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کابل میں افغان صدر، وزیر خارجه صلاح الدین ربانی، اجرائیوی رئیس عبدالله عبدالله سمیت متعدد دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ یه ملاقاتیں نجی ماحول میں ہوئیں اور اس بابت میڈیا نمائندوں کو زیاده تفصیلات سے آگاه نہیں کیا گیا۔ تاہم صدر غنی کے بیان سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے که کم از کم دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی بحالی پر اتفاق رائے ہوا ہے۔

یاد رہے که کابل حکومت کی جانب سے طالبان سربراه ملا عمر کی ہلاکت کی خبر عیاں کیے جانے کے بعد جیسے ہی ملا اختر منصور نے قیادت سنبهالی، افغانستان بهر میں بالعموم اور دارالحکومت کابل میں بالخصوص دہشت گردانه واقعات بڑھ گئے۔ اگست کے دوسرے ہفتے میں کابل میں ہوئے پے درپے حملوں میں قریب پچاس افراد کی ہلاکت کے بعد صدر اشرف غنی نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا تها که مسلسل کوششوں اور نیک نیتی کے باوجود پاکستان نے ان عناصر کی پناه گاہوں کے خاتمے میں عملی اقدامات نہیں کیے، جو افغانستان کی بربادی کا سبب بن رہے ہیں۔

غنی کے بقول اسلام آباد حکومت نے عسکریت پسندوں کے حقانی نیٹ ورک کے خلاف ہاتھ ہلکا رکها ہوا ہے جبکه کابل آمد سے قبل سرتاج عزیز کا کہنا تها که شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد حقانی نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی پاکستان کی ثالثی اور چین و امریکا کی حمایت سے شروع ہونے والے امن مذاکرات کا سلسله بهی منقطع کر دیا گیا تھا۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق کابل حکام نے ایسے موقع پر مذاکرات کے اہم پڑاؤ میں شرکت سے انکار کیا جب طالبان کی اعلیٰ قیادت کے نمائندے مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان میں موجود تھے۔ سرتاج عزیز کے دورهٴ کابل سے قبل اسلام آباد میں وزارت خارجه کے ذرائع کا کہنا تها که پاکستان کی جانب سے افغانستان پر زور دیا جائے گا که وہ امن مذاکرات کے سلسلے کو پھر سے بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

Afghanistan Konferenz Wiederaufbau

علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس میں شریک ملکوں کے سرکردہ نمائندوں کا گروپ فوٹو

تجزیه نگار نظام الدین کے بقول صدر غنی کی حکومت کو علم ہے که پاکستان کی خارجه و دفاعی پالیسی اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی کے GHQ میں بنائی جاتی ہے، اسی لیے قیادت سنبهالنے کے ساتھ ہی افغان قیادت نے پاکستان کی فوجی قیادت کو بهی باور کرانے کی کوشش کی تهی که کابل حکومت پاکستان مخالف عناصر کی پشت پنایی نہیں کرے گی اور اسلام آباد سے بهی یہی توقع کی جاتی ہے:’’مگر ایسا لگتا ہے که غنی کی کوششوں کے باوجود اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے حوالے سے پاکستانی فوج کی پالیسی میں تبدیلی نہیں آئی۔‘‘

سینیئر آفیشلز میٹنگ کے اجلاس میں افغان صدر نے کہا که قیام امن اور ملک میں خون خرابے کی روک تهام کے حوالے سے وه اور اقتدار میں ان کے ساتھ شریک چیف ایگزیکیٹیو عبدالله عبدالله متفق ہیں۔

گزشته روز علاقائی اقتصادی تعاون کانفرنس Regional Economic Cooperation Conference سے خطاب کے دوران اشرف غنی کا کہنا تها که قیام امن نه صرف افغانستان بلکه پورے خطے کی بہتری کا ضامن ہے:’’میرا پیغام ان قوتوں کے لیے، جو تشدد کو سپورٹ کرتی هیں، یه ہے که ہم چالیس سال سے یه حالات برداشت کر رہے ہیں اور کسی صورت بهی دہشت گردی کے آگے شکست تسلیم نہیں کریں گے، آئیں مل کر مفاہمت اور تعاون کے راستوں پر گامزن ہو جائیں۔‘‘