1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ’اہم سنگ میل‘

پاکستان اور افغانستان کے مابین طے پانے والے تجارتی معاہدے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ ملٹی بلین ڈالر ایشین مارکیٹ کی بنیاد بن سکتا ہے۔

default

پاکستان اور افغانستان کے وزرائے تجارت دستاویزات کا تبادلہ کر رہے ہیں

خبررساں ادارے AFP کی جانب سے جاری کئے گئے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ویک اینڈ پر طے پانے والا تجارتی معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

اسلام آباد اور کابل حکومتوں کے مابین اس معاہدے پر دستخط امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی موجودگی میں پاکستانی دارالحکومت میں کئے گئے۔

امریکہ نے اس سمجھوتے کو دونوں ملکوں کے درمیان اب تک طے پانے والا اہم ترین معاہدہ قرار دیا ہے۔ واشنگٹن انتظامیہ کے مطابق خطے میں طالبان کی انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات ناگزیر ہیں۔

پاکستان نے بھی اس معاہدے کو افغانستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے حوالے سے ایک ’اہم سنگ میل‘ قرار دیا ہے۔ اس کے تحت دونوں ریاستوں کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 2015ء تک سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر سے بڑھ کر پانچ ارب ڈالر ہو جائے گا۔

Afghanistan Pakistan Handelsabkommen Clinton Rehman Malik

یہ معاہدہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر طے پایا

اس معاہدے کو افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کا نام دیا گیا ہے جس کی دونوں ممالک کے پارلیمنٹس کی جانب سے توثیق ابھی باقی ہے۔ اس کے تحت افغانستان کو پاکستان کے راستے بھارت کے ساتھ تجارت کی اجازت ہو گی جبکہ پاکستان افغانستان کے راستے وسط ایشیائی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کر سکے گا۔

افغان وزیر خزانہ عمر زاخیلوال کا کہنا ہے، ’اس معاہدے سے ہماری دیہی کمیونٹیوں کو فائدہ ہو گا اور ہماری مصنوعات کو بھارتی مارکیٹوں تک رسائی ملے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ اس سے خطے کی خوشحالی کے لئے دونوں حکومتوں کے درمیان جاری تعاون کی اہمیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔

تجزیہ کار ہارون میر کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لئے بھارت ایک بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان کے لئے بھی وسطی ایشیائی مارکیٹوں تک پہنچنا انتہائی اہم ہے۔ میر بھی اس معاہدے کو دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے لئے پہلا قدم قرار دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ کابل حکومت پاکستان میں انتہاپسندوں اور پاکستانی خفیہ ایجنٹوں کو افغانستان میں تشدد کو ہوا دینے کا ذمہ قرار دیتی ہے۔ تاہم اسلام آباد حکومت اس الزام کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف لڑائی میں گزشتہ تین برس کے دوران اس کے اپنے دوہزار فوجی اور ساڑھے تین ہزار سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM