1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اور افغانستان میں قربت بڑھی ہے، کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وکی لیکس پرامریکی سفارتی کیبلر کے عام کئے جانے کا مقصد چاہے کچھ بھی ہو لیکن اس نے پاکستان اورافغانستان کو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے۔

default

افغان صدر کرزئی اور پاکستانی وزیر اعظم گیلانی

افغان صدر کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی افغانستان کے دورے پرہیں۔ دونوں رہنما گزشتہ روزایک دوسرے سے ملے اورمشترکہ پریس کانفرنس میں اعتماد کی بحالی کی ضرورت کواجاگر کیا۔

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین مشترکہ ترقی کا تصور فروغ پا رہا ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے اپنے دورہ ء افغانستان کے آخری دن افغان تاجربرادری اور کارپوریٹ سیکٹر کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کی۔

اس موقع پراپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی معیشت کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ گیلانی کے بقول کابل اوراسلام آباد کے درمیان اس بات پراتفاق ہوا ہے کہ اشیاء اورتوانائی کے وسائل کے تبادلے کے لئے نئی راہ داریاں پیدا کی جائیں گی۔ پاکستانی وزیراعظم نے اس ضمن میں ترکمانستان سے بذریعہ افغانستان گیس سپلائی کے منصونے TAPI، جنوب و وسطی ایشیا کے درمیان بجلی و تجارت کے منصبوبے CASA-1000 اور ریل لنک کا ذکر کیا۔

Yusuf Raza Gilani und Hamid Karzai

کرزئی اور گیلانی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران

پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کو خصوصی بین السرحدی اقتصادی زون بنانے کی تجویزدی گئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے نجی شعبے کے مشترکہ منصوبوں کو فروغ دیا جاسکے گا۔ دونوں ممالک میں موجود وافر انسانی و قدرتی وسائل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان وسائل کے بہتر استعمال کے لئے فورم بنائے جائیں۔

واضح رہے کہ افغانستان دنیا بھر میں پاکستانی مصنوعات کی تیسری بڑی منڈی ہے۔ افغان صدرحامد کرزئی نے اپنے پاکستانی مہمان کو یقین دہائی کرائی ہے کہ 2015ء تک دو طرفہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔

گزشتہ شب افغان وزیر داخلہ بسم اللہ محمدی اور پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے سلامتی کو یقینی بنانے اور منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق معاہدوں پر دستخط کئے۔ واضح رہے کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان لگ بھگ 2400 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ کابل حکومت الزام لگاتی آرہی ہے کہ عکسریت پسند پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوکر بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ اسلام آباد ان دعووں کو رد کرتا ہے۔ واشنگٹن کی کوششوں کے بعد دونوں ممالک کے مابین حال میں ایک ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ طے پایا ہے جس سے اعتماد سازی کی فضاء بحال ہونے کی امید کی جارہی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM