1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان، اورکزئی ایجنسی میں 15 عسکریت پسند ہلاک

انتہا پسندوں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیا نی شب اورکزئی ایجنسی کے علاقے بیزوت خیل میں واقع اپنا وہ کیمپ دوبارہ حاصل کرنے کے لئے حملہ کیا، جس پردو دن پہلے پاکستانی فوج نے قبضہ کیا تھا۔

default

پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق ملک کے شمال مغربی قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 15 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

فرنٹیر کور کےترجمان میجر فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ رات کی تاریکی میں اورکزئی اور خیبر ایجنسیوں کی جانب سے100 کے قریب شدت پسندوں نے حملہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں 15 عسکریت پسندوں کو ہلاک جبکہ چار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس دوران پاکستانی فوج کا ایک سپاہی بھی زخمی ہوا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد انتہاپسند بھاگ کر قریبی پہاڑوں میں چھپ گئے۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعد انتہا پسندوں نے بھاگ کر پاکستان کی مغربی سرحد کے قریب اورکزئی ایجنسی میں پناہ لے لی۔ اسلام آباد حکومت نے گزشتہ ماہ اورکزئی ایجنسی میں بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی تیز کی ہے۔ زمینی فوج کے علاوہ گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جیٹ جہازوں سے بھی شدت پسندوں کے ٹھکانوں کہ نشانہ بنایا جا رہا ہے اور پاکستانی فوج جسے اورکزئی ایجنسی میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے کا دعویٰ ہے کہ اس نے وہا ں نمایا ں کامیابیا ں حاصل کی ہیں۔ سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں میں اورکزئی ایجنسی میں مختلف کارروائیوں کے دوران 250 سے زائد عسکریت پسندوں کو ماراجا چکا ہے تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔اورکزئی ایجنسی پاکستانی طالبان کے رہنماحکیم اللہ محسود کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اس سال جنوری میں ایک مبینہ امریکی ڈرون حملے میں مارے جا چکے ہیں۔

رپورٹ : بخت زمان

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM