1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان اورافغانستان کا مزاحمت کاروں سے رابطوں کا فیصلہ

پاکستان اور افغانستان نے اپنے اپنےعلاقوں میں فعال عسکریت پسندوں اور مزاحمت کاروں سے رابطوں کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک دس رکنی گروپ تشکیل دیا ہے جس میں دونوں ملکوں کے پانچ پانچ ارکان شامل ہوں گے۔

default

جنوبی افغان صوبے قندھار میں نیٹو دستوں میں شامل ہالینڈ کے دو فوجی ایک چوکی پر نگرانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے

اس گروپ میں شامل پاکستانی ارکان کی سربراہی صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی کریں گے جبکہ افغان گروپ کی قیادت سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ کے پاس ہو گی۔ دونوں ذیلی گروپ اپنے اپنے ملکوں میں متحرک مزاحمت کاروں کے سربراہان سے رابطے کرنے کے بعد دسمبر کے آخر میں پشاور میں جمع ہوں گے اور اس اجلاس میں طرفین ایک دوسرے کو اپنی اپنی رابطہ کوششوں کے نتائج سے آگاہ کریں گے۔

اس ورکنگ گروپ کے قیام کا فیصلہ گورنر سرحد اویس احمد غنی کے دورہ کابل کے دوران کیا گیا جہاں انہوں نے افغانستان کے نائب وزیر خارجہ اور پاک افغان منی جرگہ کے سربراہ فاروق وردگ سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں منی جرگہ کی جانب سے دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے اور قیام امن کے لئے کوششوں میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔

Pakistan Unruhen und Gewalt in Provinz Nord-Waziristan

پاکستانی نیم فوجی اہلکار شمالی وزیرستان ایجنسی کے صدر مقام میران شاہ میں مقامی افراد کی تلاشی لیتے ہوئے

افغانستان میں اس نو تشکیل شدہ گروپ کے ارکان حزب اسلامی حکمت یار گروپ سمیت کئی مزاحمت کار تحریکوں کے سربراہان سے ملیں گے جبکہ اویس غنی کی قیادت میں اس گروپ کے پاکستانی ارکان قبائلی علاقوں میں مسلح کوششیں کرنے والے مزاحمت کاروں سے رابطے کریں گے۔

پشاور میں دسمبر کے آخر میں ہونے والے دس رکنی گروپ کے مشاورتی اجلاس میں اس وقت تک کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے بعد آئندہ کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

اس گروپ کی تشکیل اور افغانستان میں قیام امن کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے پاکستانی سوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے کہا کہ اس وقت پاکستان سمیت پورےخطےکوجن مسائل کا سامنا ہے ان کی جڑیں افغانستان میں ہیں۔

اویس غنی کے بقول جب تک افغانستان میں استحکام نہیں آتا، جب تک وہاں ایک فعال حکومتی اور سیکیورٹی نظام قائم نہیں ہوتا، تب تک افغانستان میں افراتفری کا ماحول باقی رہے گا اور پاکستان اس کے اثرات کی زد میں رہے گا۔ گورنر غنی نے کہا کہ آج بھی پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سے زیادہ تر کی وجہ افغانستان ہے۔

Audios and videos on the topic