1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریزمیں فیورٹ

ابوظہبی مشرق اور مغرب کے صف اول کے ٹیسٹ کرکٹرزکا سنگم ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان اورانگلینڈ کی کرکٹ ٹیمیں کانٹی نینٹل ہوٹل میں پڑاؤ ڈال چکی ہیں، جہاں سے چند میل کی مسافت پر شیخ زید اسٹیڈیم میں پہلا ٹیسٹ منگل سے شروع ہو گا۔

کپتان مصباح الحق کی یہ ٹیسٹ سیریز دبئی سے شروع کرنے کی تجویز پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھلے ہی نظراندازکی ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ابوظہبی میں پاکستان کبھی ٹیسٹ میچ نہیں ہارا۔ ساڑھے تین سال پہلے شیخ زید اسٹیڈیم پر ہی انگلینڈ کو بہتر رنز پہ ٹھکانے لگا کر اس نے تین صفر کے وائٹ واش کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ لیکن اس بار زوردارمقابلہ متوقع ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم ایشیز جیت کرآئی ہے۔ بین سٹوکس، معین علی اور جوز بٹلر جیسےآل راؤنڈرز نے اس ٹیم کو پہلے سے زیادہ متوازن بنا دیا ہے۔ دوسری طرف مصباح کی ہی قیادت میں پاکستان سواسال سے ٹیسٹ کرکٹ میں ناقابل شکست ہے اور حال ہی میں نو سال بعد سری لنکا کو سری لنکا میں زیرکر چکا ہے۔

پچھلی سیریز میں سعید اجمل اور عبدالرحمان نے بال ٹریکنگ اور ہاٹ اسپاٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے انگریز بیٹسمینوں کا جینا حرام کر دیا تھا اور تینتالیس وکٹیں لی تھیں۔ ڈی آر ایس سسٹم امپائرز کو شک کا فائدہ دینے کے رجحان کی بدولت اس بار مہمانوں پر ماضی کی طرح بے رحم نہ ہوگا البتہ یہی بات پاکستانی اسپنرز کے بارے میں ہرگز نہیں کہی جا سکتی۔ یاسرشاہ اور ذوالفقار بابر کی جوڑی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور سری لنکا جیسی چوٹی کی ٹیموں کے خلاف سو وکٹیں لیکر اپنی دھاک بٹھا چکی ہے۔ دنیا کے تیز ترین باؤلرز میں سے ایک وہاب ریاض کی شمولیت سے پاکستانی باؤلنگ کا اٹیک مہلک نظر آرہا ہے۔

انگلینڈ کی بیٹنگ ایشیز ہیرو جو روٹ کے گرد گھومتی ہے، جو امسال ایک ہزار ٹیسٹ رنز بنانے والے دنیا کے واحد بیٹسمین ہیں۔ تین سال سےکپتان کک کے ساتھی کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ دو ہزار بارہ میں اینڈریو سٹراؤس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے نک کامپٹن سے ایڈم لتھ تک انگریز سلیکٹرز چھ مخلتف اوپنرز آزما چکے ہیں اور اب نئے امیدواروں معین علی اور ایلیکس ہیلزکی شارجہ وارم اپ میچوں میں ناکامی نے اس درد سر میں اضافہ کیا۔ آف اسپن کے اضافی ہنر کی وجہ سے معین اس دوڑ میں آگے نظر آرہے ہیں۔ اسٹیورٹ براڈ کی کا نواں نمبر مہمان ٹیم کی بیٹنگ کی گہرائی کا پتہ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصباح الحق کو ٹیسٹ ٹیم میں بطور پانچویں باؤلر شعیب ملک کی وکالت کرنا پڑی۔ مصباح کا کہنا تھا کہ مخالف ٹیم کی بیٹنگ میں پانچ لیفٹیز کی وجہ سے بھی آف اسپنر کا ہونا ضروری تھا۔ یعنی جو کام پہلے باؤلنگ میں مصباح کے لیے محمد حفیظ کرتے تھے اب وہ ملک کریں گے۔ البتہ اپنے چودہ سال ٹیسٹ کیریئر میں صرف دو سینچریاں بنانے والے شعیب ملک اب کس نمبر پر بیٹنگ کریں گے؟

پاکستانی اوپنگ کا شعبہ انگلینڈ سے بھی زیادہ کمزور اور بے یقینی سے دوچار ہے۔ پالیکلے میں سینچری کی وجہ سے شان مسعود کی انٹری کنفرم ہے تاہم احمد شہزاد اورمحمد حفیظ کی خراب فارم تشویشناک ہے۔ محمد حفیظ جمعہ کو ابوظہبی میں امارات کے خلاف دو روزہ میچ کے پہلے دن دو بار آؤٹ ہوئے۔ البتہ پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ سیٹل ہے۔ مصباح الحق، اسد شفیق اور سرفرزا احمد منہ بولے ہوم گراؤنڈ پر اپنا لوہا اس عشرے میں بارہا منوا چکے ہیں۔ نگاہیں بیتے برسوں کی طرح اس بار بھی عظیم یونس خان کے تعاقب میں ہونگی۔ یونس کومیانداد کا آٹھ ہزارآٹھ سو بتیس رنز کا پاکستانی ریکارڈ توڑنے کے لیے صرف انیس رنز مزید درکار ہیں۔ پاکستان کے اس سیریز میں معمولی فیورٹ ہونے کا باعث بھی یونس خان اینڈ کمپنی کی حالیہ فارم ہی ہے۔

انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف ماضی قریب کی طرح اب مونٹی پانیسر اورگریم سوان جیسے اسپنرز کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی۔ یارکشائر کے لیگ اسپنر عادل رشید پہلی بار ٹیسٹ کیپ پہنیں گے۔ پیس باؤلنگ اٹیک انگلینڈ کی تاریخ کے سب سے کامیاب باؤلر جیمز اینڈرسن اوراسٹورٹ براڈ پر مشتمل ہونے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے لیکن آیا دونوں بڑھتی ہوئی عمر میں خلیج فارس کی گرمی اور سست رو اسپن پچز کی سختیاں سہہ سکیں گے؟ یہ ملین ڈالرکا سوال ہے۔

سیریز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک صفر سے کامیابی پاکستان کو آئی سی سی عالمی رینکنگ میں تیسرے اور دو صفر سے دوسرے نمبر پر پر لے جائے گی۔ پی سی بی کے آفیشل براڈ کاسٹر ٹین اسپورٹس نے سیریز کی کوریج کے لیے ماییک آتھرٹن، آئن بوتھم، ڈیوڈ لاییڈ، رمیزراجہ، بازید خان۔ سکندربخت اورجوناتھن ٹراٹ کی خدمات بطور کمنیٹیٹر حاصل کی ہیں۔