1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان امریکی اتحاد سے علیحدہ ہو جائے، مذہبی جماعتوں کا مطالبہ

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی افواج کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کے قتل کے بعد پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ سے اتحاد ختم کردے۔

default

اسامہ کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے

ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلز کے ہاتھوں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے مرکزی رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو پاکستان کے مذہبی حلقے ملک کی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کی مذہبی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید امریکہ کا ساتھ نہ دے اور اسے کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کردے۔

پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے جمعے کے روز امریکی آپریشن اور اسامہ بن لادن کے قتل کی مذمت میں ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔

Flash-Galerie Jamaat-ud-Dawa Gebet Osama Bin Laden

جماعت الدعوہ کے اراکین اسامہ بن لادن کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھتے ہوئے اشکبار

پاکستان کی مذہبی جماعت، جماعتِ اسلامی کےسربراہ منوّر حسن کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں امریکہ کے لیے کچھ اچھے جذبات تھے تو وہ اب اس آپریشن کے بعد ختم ہو گئے ہیں۔ ’ہم نے جمعے کے روز پر امن مظاہروں کی اپیل کی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ سے علیحدہ ہو جائے۔‘

پاکستان کے کئی حلقوں میں امریکہ مخالف جذبات پائے جاتے ہیں تاہم پاکستانی مبصرین کی رائے میں القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے بارے میں بھی اچھے جذبات نہیں پائے جاتے۔

دوسری جانب پاکستانی میڈیا میں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور امریکی آپریشن میں دنیا کے سب سے مطلوب دہشت گرد کی ہلاکت اور اس حوالے سے پاکستانی افواج اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے کردار پر تنقید کی جا رہی ہے۔ پاکستانی حکومت اور افواج نے اعتراف کیا ہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں پانچ سال سے مقیم تھا اور اس کا سراغ نہ لگا پانا ان کی نا اہلی تھا۔

بعض پاکستانی دانشوروں کے مطابق پاکستان کی ایک بڑی آبادی اسامہ کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہے کیونکہ خستہ حال معیشت، غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM