1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان، اقتصادی بحران اور تاجران

پاکستان کی کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اگلے دو ہفتوں میں بجلی کی قیمتوں میں مستقل طور پر چالیس فیصد کمی نہ کی تو وہ کارخانے بند کر کے چابیاں حکومت کے حوالے کر دیں گے۔

default

کچھ روز قبل لاہور میں تاجروں نے بجلی کی بندش اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا

پاکستان میں جاری اقتصادی بحران نے جہاں عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے وہاں اس سے کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

لاہور میں منگل کے روز پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے صنعتکاروں، تاجروں اور کاروباری لوگوں نے ایک اجلاس میں بجلی کے مسائل اور اقتصادی بحران کے حوالے سے کاروباری حلقوں کے آئندہ کے لاحہ عمل کے حوالے سے بات چیت کی۔

اس بات کا فیصلہ پاکستان کے صنعتی اداروں کی ایسوسی ایشنوں، تجارتی تنظیموں اور ملک بھر کے ایوان صنعت و تجارت کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ اجالس میں کیا۔

آل پارٹیز ٹریڈ باڈیز کانفرنس کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرمحمد علی میاں نے کہا کہ تاجر برادری کوپاکستان کا آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرض منظورنہیں ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کو کاروباری حلقوں کو اعتماد میں لئے بغیر کسی صورت قبول نہ کیا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے ریٹس کو مستقل طور پر چالیس فیصد کم کیا جائے۔

اجلاس کے اختتام پر جاری کئے گئے ایک مشترکہ بان میں تاجروں نے زور دیا کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی کرے اور حکومتی اخراجات کی مد میں بھی پچاس فیصد تک کمی کی جائے۔

اس اجلاس میں حکومت کو اقتصادی بحران سے نکلنے کے لئے مختلف تجاویز بھی دی گئیں۔ ایوان صنعت و تجارت لاہور کے صدر محمد علی میاں نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :’’ عیش و عشرت کی چیزوں کی درآمد کو فورا روک دیا جائے تاکہ درآمدات اور برآمدات کے فرق کو ختم کیا جا سکے۔‘‘

تاجروں کا کہنا تھا کہ مطالبات نہ ماننے کی صورت میں وہ کارخانے بند کرنے کے بعد آرام سے نہیں بیٹھیں گے بلکہ سڑکوں پرآ کر حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے۔