1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: افغان مہاجرین واپس جائیں یا نہیں؟ ملی جُلی آراء

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے اپنے ہاں مقیم افغان مہاجرین کو مزید مہلت دینے کی مخالفت کی ہے لیکن تاجر برادی کا کہنا ہے کہ ان کے جانے سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

Afghanistan Flüchtlinge kehren aus Pakistan zurück

آرمی پبلک اسکول کے واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو پاکستان سے واپس افغانستان بھیجا چکا ہے

پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات میں اُتار چڑھاؤ کے اثرات یہاں مقیم افغان مہاجرین پر مرتب ہو رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات مشتاق غنی کا کہنا ہے:’’وفاقی حکومت نے یہاں مقیم افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں توسیع کے حوالے سے صوبائی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا۔ زیادہ تر افغان مہاجرین خیبر پختونخوا اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، جو صوبے کی معیشت پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں جبکہ دہشت گردی کے کئی بڑے واقعات میں گرفتار کیے جانے والے افغان مہاجرین ہی ہیں لہٰذا اب انہیں باعزت طریقے سے واپس چلے جانا چاہیے۔‘‘

افغان مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق پاکستان میں پندرہ لاکھ افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں جبکہ دس لاکھ سے زیادہ غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ ان میں سے تقریباً ستر فیصد مہاجرین مختلف شہری اور دیہی علاقوں میں جبکہ باقی ملک کے پچھتر کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔

شہری علاقوں میں قیام پذیر افغان شہری مختلف طرح کے کاروبار کر رہے ہیں۔ زیادہ تر افغان قالین سازی، ہوٹل، ٹرانسپورٹ، ڈرائی فروٹ اور کپڑے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ یہ لوگ حکومت پاکستان کو بالواسطہ اور بلاواسطہ کئی طرح کے ٹیکس بھی دیتے ہیں۔

انجمن تاجران کی رابطہ کمیٹی پشاور کینٹ کے صدر مجیب الرحمان سے جب اس سلسلے میں ڈوئچے ویلے نے بات کی تو ان کا کہنا تھا:’’افغانوں کو زبردستی نکالنے کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک جانب وسطی ایشا تک رسائی کے لیے کوشاں ہے جبکہ دوسری جانب افغانوں کو تنگ کر کے وہی تمام راستے بند کیے جا رہے ہیں:’’افغانستان کے ساتھ اس وقت پانچ ارب ڈالرز سے زیادہ کی تجارت ہو رہی ہے جبکہ غیر رسمی تجارت اس سے بھی زیادہ ہے۔ اگر افغانوں کو اس طرح نکالا گیا تو پاکستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘

پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سولہ دسمبر کو رونما ہونے والے آرمی پبلک سکول کے واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو نکالا گیا ہے جس کی وجہ سے آج افغانستان میں پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا زوروں پر ہے۔ کئی سیاسی اور غیر سرکاری تنظیمیں اس کوشش میں ہیں کہ دونوں ممالک کے مابین تناؤ کو کم کیا جا سکے۔ پشاور میں جمعرات کے روز اسی طرح کے ایک سیمینار کے دوران افغان قونصلیٹ کے ٹریڈ کمشنر ڈاکٹر میر ویس یوسفزئی نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا:’’دونوں ممالک کے مابین تناؤ کی وجہ سے تجارت کو بری طرح نقصان پہنچ رہا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین اس وقت اربوں ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے اور اس سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا:’’دونوں ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ اس تناؤ کو ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں، اس کشیدگی سے دونوں ممالک کے عوام کو بے پناہ نقصان پہنچ رہا ہے۔‘‘

Afghanistan Flüchtlinge an der Grenze zu Pakistan

بارہ ستمبر 1996ء کی اس تصویر میں ہزاروں افغان مہاجرین طورخم کی پاک افغان سرحد پر پاکستانی سرزمین پر قدم رکھنے کے منتظر ہیں

پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین میں سے اکیاسی فیصد پختون ہیں جبکہ باقی ماندہ انیس فیصد میں تاجک، ازبک، ہزارہ، ترکمن اور دیگر شامل ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ اور افغانستان کی درخواست پر دو سال قبل افغان مہاجرین کی پاکستان میں رہائش میں دو سال کے لیے توسیع کا فیصلہ کیا تھا، جس کی مدت سال رواں کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔ اس دوران مزید دو سال کے لیے توسیع بھی کی گئی ہے تاہم اس کے ساتھ یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ان دو سالوں کے دوران قانونی اور غیر قانونی افغان مہاجرین کو واپس جانا ہو گا۔

خیبر پختونخوا کے تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اب افغانستان کے زیادہ تر علاقوں اب امن آ چکا ہے، لہٰذا عالمی برادری کو انہیں وہاں بسانے میں تعاون کرنا چاہیے۔ پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر ضیاءالحق کا کہنا ہے:’’ایک طرف پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر تاجر اور صنعتکار دوسرے صوبوں میں منتقل ہو چکے ہیں جبکہ دوسری جانب افغان مہاجرین نے زیادہ تر کاروبار پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسی طرح یہاں مقیم افغان مہاجرین اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث ہیں، لہٰذا اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی اداروں کو یہ بات سمجھاتے ہوئے افغان مہاجرین کو یہاں سے باعزت طریقے سے نکالنے اور اپنے ملک میں بسانے میں تعاون کرے۔‘‘