1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان افغان سمٹ کے لئے رہنما استنبول میں جمع

پاکستان، ترکی اور افغانستان کے مابین چوتھا خصوصی اجلاس آج سے استنبول میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور ان کے افغان ہم منصب حامد کرزئی اجلاس میں شرکت کے لئے اتوار کو ترکی پہنچے۔

default

پاکستانی صدر آصف زرداری، ترک صدر عبداللہ گُل اور افغان صدر حامد کرزئی

توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس مرتبہ اس سہ فریقی اجلاس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ شعبہ تعلیم میں تعاون پر بھی غور کیا جائے گا۔

پاکستانی صدر آصف زرداری اپنے ہم منصب افغان اور ترک رہنماؤں کے ساتھ چوتھے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ ترکی، پاکستان اور افغانستان کا روایتی حلیف ہے۔ انقرہ حکومت دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں بہتر تعلقات کے لئے کوشش کر رہی ہے اور اس کے حکام نے پیر کے اجلاس کو دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے طور پر استعمال کرنے کی اُمید ظاہر کی ہے۔

Angela Merkel im Bundestag Haushaltsdebatte 2010

حامد کرزئی جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقات کریں گے

کابل حکومت کے اعلامئے کے مطابق صدر کرزئی اپنے پاکستانی ہم منصب آصف زرداری سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مؤثر بنانے پر بھی بات چیت کریں گے۔ حامد کرزئی کو پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے میں مشکل رہی ہے۔ دونوں رہنما اپنی سرحدوں پر سلامتی کے مسائل کے لئے ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہراتے رہے۔

سہ فریقی اجلاس پہلی مرتبہ اپریل 2007ء میں ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد کیا گیا تھا۔ دوسرا اجلاس دسمبر 2008ء میں استنبول میں جبکہ تیسرا گزشتہ برس اپریل میں انقرہ میں ہوا تھا۔

پاکستانی صدر آصف زرداری سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے ساتھ منگل کو استنبول سمٹ میں بھی شریک ہوں گے۔ اس اجلاس میں پاکستان کے علاوہ چھ دیگر ممالک شامل ہیں۔ استنبول سمٹ میں برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ، تنظیم برائے اسلامی کانفرنس کے سیکریٹری جنرل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے مملکت برائے خارجہ امور مبصرین کے طور پر شریک ہوں گے۔

David Miliband Außenminister England

استنبول سمٹ میں برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ بھی شریک ہوں گے

استنبول کانفرنس میں افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے اس کے پڑوسی ممالک پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے پر غور کیا جائے گا۔ اس کانفرنس کی تجویز تیسرے سہ فریقی اجلاس کے موقع پر گزشتہ برس اپریل میں پاکستانی صدر آصف زرداری نے ہی پیش کی تھی۔

حامد کرزئی استنبول سمٹ میں شرکت کے بجائے منگل کو ترکی سے جرمنی روانہ ہو جائیں گے، جہاں وہ چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقات کریں گے۔ بعدازاں وہ افغانستان کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن جائیں گے۔

اُدھر ترکی میں پاکستانی سفیر طارق عزیزالدین نے کہا ہے کہ سہ فریقی کانفرنس، استنبول سمٹ اور لندن اجلاس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔

آصف زرداری دورہ ترکی کے دوران انقرہ حکام سے علیٰحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ اس دوران ترکی کے ساتھ باہمی تعاون اور دوطرفہ تجارت کے فروغ پر بھی غور کیا جائےگا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: مقبول ملک

DW.COM