1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان - افغانستان سرحد، اسمگلنگ کا گڑھ

پاکستان کے قبائلی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد اسمگلنگ کا گڑہ بن چکی ہے اور سرحد کے آر پار روزانہ کروڑوں روپے مالیت کا سامان اسمگل کیا جاتا ہے۔

default

سرحد پر تعینات عملہ اسمگلنگ کا سامان لانے لے جانے والے ٹرکوں سے غیر قانونی طور پر بھاری رقوم وصول کرتے ہیں جو قومی خزانے کی بجائے ان اہلکاروں کی جیب میں چلی جاتی ہے۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے گزرنے والے ان ٹرکوں کے ڈرائیوروں کے مطابق ان سے سے طورخم سے لیکر پشاور کے کارخانوں مارکیٹ اور اسی طرح واپسی کے سفر میں مختلف چیک پوسٹوں پر پانچ سو سے لیکر ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ کسٹم اور ٹیکس کا مؤثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے سرحد پار سے ہونے والی اسمگلنگ کے باعث قومی خزانے کو کروڑوں اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ خیبراور مومند ایجنسی کے راستے افغانستان سے الیکٹرانکس، ٹائر،کراکری،گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس، ادویات اور دیگر اشیاء سمگل کی جاتی ہیں۔ ان اشیاء کو پشاور سے ملک کے دیگر شہروں کی باڑہ مارکیٹوں تک پہنچایا جاتا ہے، جبکہ پاکستان سے ادویات، جانور، سیمنٹ، اشیاء خوردونوش سمیت ضروریات زندگی کا دیگر سامان افغانستان اسمگل کیا جاتا ہے۔

قبائلی علاقوں کے معاملات پر نظر رکھنے والوں کے مطابق اس سامان کی آڑ میں بھاری اسلحہ اور بارود بھی پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے

قبائلی علاقوں کے معاملات پر نظر رکھنے والوں کے مطابق اس سامان کی آڑ میں بھاری اسلحہ اور بارود بھی پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے

قبائلی علاقوں کے معاملات پر نظر رکھنے والوں کے مطابق اس سامان کی آڑ میں بھاری اسلحہ اور بارود بھی پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے، تاہم سیکورٹی اہلکار اور انتظامیہ بھاری رقوم عوض انہیں جانے دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے ہر شہر میں لوگوں کے پاس ہر قسم کا  غیر ملکی اور زیادہ تر غیر قانونی اسلحہ موجود ہے۔

پاک افغان سرحد طورخم سے لیکر پشاور کے کارخانوں مارکیٹ تک اہم چیک پوسٹوں میں لنڈی کوتل، دتہ خیل بازار چیک پوسٹ، تختہ بیگ، مچنی، غنڈی اور تحصیل جمرود کا غنڈیء چیک پوسٹ شامل ہیں۔

مبصرین کے مطابق سامان سے لدے ان ٹرکوں سے لی جانیوالی رقوم جہاں انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز میں تقسیم ہوتی ہیں، وہاں ان سے با اثر قبائلی سرداروں کو بھی نوازا جاتا ہے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے سختی کی صورت میں یہ سامان دشوار گزار پہاڑی راستوں سے پاکستانی حدود میں پہنچایا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں جب کارخانوں مارکیٹ کی تاجر ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل سردار اسد سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا: ’’جسے لوگ اسمگلنگ کہتے ہیں، قبائل اسے تجارت سمجھتے ہیں اور افغانستان کے راستے تجارت کا یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ یہ کوئی غیر قانونی کام تو ہے نہیں۔ حکومت نے اب تک قبائلی عوام کے لیے کچھ نہیں کیا تو ایسی صورت میں قبائلی لوگ تجارت نہ کریں تو پھر اور کیا کریں گے۔ ہم آج زیادہ تر سامان لاہور اور کراچی کے راستے منگواتے ہیں اور وہ تمام ٹیکس اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں جو پاکستان کے دیگر علاقوں میں پورے کیے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی بعض لوگ اسے اسمگلنگ کا نام دے کر قبائل کو بدنام کرتے ہیں۔‘‘

 

طورخم سے لیکر پشاور کے کارخانوں مارکیٹ اور اسی طرح واپسی کے سفر میں مختلف چیک پوسٹوں پر پانچ سو سے لیکر ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے ہیں

طورخم سے لیکر پشاور کے کارخانوں مارکیٹ اور اسی طرح واپسی کے سفر میں مختلف چیک پوسٹوں پر پانچ سو سے لیکر ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے ہیں

قبائلی تاجروں کے بزنس کی وجہ سے قبائلی علاقوں اور پشاور کے کاخانوں مارکیٹ میں دس ہزار سے زائد دکانیں ہیں، جہاں ہزاروں لوگ برسر روزگار ہیں۔ سردار اسد کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہاں سہولیات کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے: ’’اگر حکومت قبائلی علاقوں میں صنعتی بستی قائم کرتی تو پاکستانی مصنوعات یہاں سے چند گھنٹوں کی مسافت پر افغانستان اور وسط ایشیاءکی منڈی تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔ اگر حکومت بر وقت یہ فیصلہ کرتی تو آج ہم وسط ایشیاءکی منڈی میں پاکستان کے لیے جگہ بنا سکتے تھے۔ آج کئی ممالک نے وہاں اپنے لیے جگہ بنائی ہے، لیکن پاکستان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود حکومت کچھ نہ کرسکی۔‘‘

سیاسی مبصرین  کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں کو حکومتیں گزشتہ 65  برسوں سے نظرانداز کرتی آ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہاں ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، جو پاکستان اور افغانستان کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے قبائلی علاقوں میں ’ری کنسٹرکشن آپرچونٹی زون‘ کے قیام کا وعدہ پورا ہوسکا اور نہ ہی ان علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیے ملنے والی اربوں ڈالرز کی غیر ملکی امداد کو مؤثر طریقے استعمال کیا جا سکا ہے۔

 

رپورٹ: فریداللہ خان، پشاور

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات