1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان اصلاحات عمل میں لائے، عالمی رہنما

عالمی رہنماؤں نے سیلاب سے تباہ حال پاکستان کی مالی مدد کو پاکستانی میں عمل میں لائی جانے والی اصلاحات کے بدلے میں دو طرفہ ڈیل قرار دیا ہے۔

default

اجلاس سے قبل شاہ محمود قریشی عالمی رہنماؤں کے ساتھ

بیلجیئم کےدارالحکومت برسلزمیںجمعہ کو منعقد ہوئےفرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان نامی گروپ کے ایک اجلاس میں پاکستان میں اصلاحات کے عمل اور حالیہ سیلابوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لئےغورکیا گیا۔ اس دوران پاکستان میں بحالی اور تعمیرنو کے حوالے سے کئی منصوبہ جات بھی زیر بحث آئے۔

اس خصوصی اجلاس میں زیادہ ترتوجہ اس بات پر مرکوزرہی کہ حالیہ سیلابوں کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے کیا کیا طریقے عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس اجلاس کی سربراہی کی۔

ایشٹن نے اس اجلاس کے انعقاد پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’یہ اجلاس پاکستانی عوام کی مدد کے لئے منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ایک مستحکم ریاست کو یقینی بنا سکیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سیلاب سےمتاثر ہونے والے افراد اپنے نقصانات کا ازالہ کرتے ہوئے دوبارہ اپنی معمول کی زندگی شروع کر سکیں۔‘ پاکستان میں حالیہ سیلاب کے باعث تباہی کا تخمینہ نو ارب 70 کروڑ ڈالر لگایا ہے، جو وہاں 2005ء میں آنے والے زلزلے کے باعث ہونے والے نقصانات کا تقریباﹰ دوگنا ہے۔

Europa Reform Vertrag tritt in Kraft 1. Dezember 2009

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن

جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس اجلاس کے دوران سفارت کاروں نے پاکستان میں توانائی، واٹر مینیجمنٹ اورٹیکس نظام میں اصلاحات لانے پر بھی زور دیا۔ پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا، ’پاکستانی وزیر خزانہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لئے متعدد منصوبہ جات پر غورکر رہے ہیں، اس حوالے سے پاکستان نے کئی اہم اقدامات کئے ہیں جبکہ کچھ ابھی بھی پائپ لائن میں ہیں۔‘

دوسری طرف برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ یہ گروپ پاکستان میں حکام پراصلاحات کے عمل کے لئے زور نہیں دے رہا جبکہ صرف اس کی مدد کے لئے متبادل راستوں پر غورکر رہا ہے۔ اس کے جواب میں شاہ محود قریشی نے اعتراف کیا، ’پاکستان میں یقینی طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے، جس میں ٹیکس نظام کے علاوہ دیگر شعبہ جات بھی شامل ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اس امر کی مکمل آگہی رکھتی ہے۔

اس اجلاس میں شریک پاکستان اورافغانستان کے لئے خصوصی امریکی مندوب رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ پاکستانی حکام کی طرف سے اصلاحات لانے کے عمل سے مکمل آگہی ان کے لئے حوصلہ افزاء ہے۔ ’پاکستانی حکومت کو احساس ہے اور وہ درست سمت میں جا رہی ہے۔‘

فرینڈزآف ڈیموکریٹک پاکستان کےاس اجلاس میں کسی مالی امداد کا وعدہ نہیں کیا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا، ’یہ ایک ایسا فورم ہے، جو پاکستان کے لئے سفارتی سطح پر حمایت اکٹھی کرنے کےلئے بنایا گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی ڈونر کانفرنس نہیں ہے اور اس وقت پاکستان کے لئے سیاسی حمایت بھی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

چھبیس ممالک اوراہم عالمی اداروں پرمشتمل فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان نامی گروپ سن 2008ء میں بنایا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستان میں جمہوری اقدار کے فروغ میں مدد دینا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM