پاکستان: اداروں کی حالت زار اور نئی حکومت | حالات حاضرہ | DW | 10.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: اداروں کی حالت زار اور نئی حکومت

پاکستان میں ریاست کے زیر انتظام چلنے والے بیشتر اداروں کی صورت حال انتہائی نہ گفتہ بہ ہے۔ تنزلی کا جانب گامزن ان اداروں کی کارکردگی اور ان میں ہونے والا وسائل کا ضیاع نئی حکومت کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی ان اہم اداروں میں سے ایک ہے۔ اس فضائی کمپنی کے اکثر طیارے پچیس سال سے زیادہ پرانے ہیں اور ان کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ اکثر پروازیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں۔ طیاروں پر کام کرنےو الے افراد کی تعداد ضرورت سے انتہائی زیادہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پی آئی اے میں ملازمین کی تعداد مطلوبہ تعداد سے کم ازکم پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں اس فضائی کمپنی کی فضا میں بلند ہونے والی ہر پرواز پاکستانی ریاست کے لیے ایک نئے گھاٹے کا باعث بنتی ہے۔

Schweden Flugzeug Bombendrohung Notlandung

پی آئی اے کو ہر سال 305 ملین امریکی ڈالر کے برابر خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے

پی آئی اے کو ہر سال 305 ملین امریکی ڈالر کے برابر خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے، جس کا پاکستان کے ہر بڑے ریاستی ادارے کو سامنا ہے۔ ماہرین کے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے ریاستی ادارے ہر سال 4.1 بلین امریکی ڈالر کے خسارے کا سامنا کرتے ہیں۔ اس خسارے کو پورا کرنے اور ان اداروں کو رواں رکھنے کے لیے قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ یہ رقم اس رقم کے علاوہ ہے، جو ملک میں توانائی کے شعبے میں موجود خسارے کو پورا کرنے کے لیے دی جا رہی ہے۔

پاکستان میں توانائی سے متعلق ادارے شدید بحران کا شکار ہیں۔ وہاں اس وقت طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے۔کئی علاقے ایسے ہیں، جہاں بیس گھنٹوں سے زائد برقی رو کی فراہمی معطل رہتی ہے۔ اس کے باوجود اس شعبے کا زیر گردش قرضہ 5.1 بلین سے تجاوز کر چکا ہے۔

Symbolbild- Proteste in Pakistan Elektrizitätsknappheit

ملک میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں 20 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔

پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم نواز شریف شکستگی کے شکار ان اداروں کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے لیے مالیاتی خسارے کے شکار ان اداروں کی نج کاری جیسے آپشنز زیر غور ہیں۔ ما ہرین کے مطابق نوازشریف کی جماعت کے پاس اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے بھاری اکثریت موجود ہے لیکن انہیں جو چیلنجز درپیش ہیں، وہ بھی کافی بڑے ہیں۔

ادارہ برائے اسلامی نظام بینکاری کراچی کے سربراہ شاہد حسن صدیقی مسلم لیگ نواز کے منشور کے حوالے سے کہتے ہیں، ’’ان کے منشور میں ایسی باتیں موجود ہیں، جن سے معیشت تیز رفتاری کے ساتھ بحالی کی طرف گامزن ہو سکتی ہے لیکن اس سے براہ راست امراء کے مفادات متاثر ہوں گے‘‘۔ شاہد حسن صدیقی نے خبردار کیا کہ اداروں کی نجکاری کی صورت میں شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔

پاکستان میں سرکاری سرپرستی میں چلنے والے درجنوں ادارے، جن میں تیل، سٹیل، کھاد اور نقل و حمل کے ادارے شامل ہیں، گھاٹے میں جا رہے ہیں۔ ماضی میں حکومتیں ان اداروں میں بہتری لانے میں ناکام رہیں۔ نہ تو ان اداروں میں سرمایہ کاری کرائی جا سکی اور نہ ہی ان اداروں کی صورت حال بہتر ہوئی۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان اداروں کی سربراہی اپنے من پسند افراد کو سونپ دی گئی، جس کی وجہ سے یہ ادارے مزید تباہی کے راستے پر چلے گئے۔

Pakistan Rupie

پاکستان کا زیر گردش قرضہ 5.1 بلین سے تجاوز کر چکا ہے۔

ایسے ہی اداروں میں سے ایک اور ادارہ پاکستان ریلوے بھی ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے، جس کے پاس موجود 460 انجنوں میں سے صرف152 چالو حالت میں ہیں اور بعض ماہرین کے نزدیک تو ان کی تعداد 50 کے قریب ہے۔ کچھ سال قبل تک پاکستان ریلویز 430 روٹس پر ریل گاڑیاں چلایا کرتی تھی۔ اب یہ تعداد کم ہوکر صرف96 رہ گئی ہے۔ اس ادارے کے پاس 80 ہزار سے زائد ایسے ملازمین ہیں، جو ادارے سے مراعاتی رہائشیں اور دیگر سہولیات حاصل کر رہے ہیں لیکن ان سہولیات کے مقابلے میں کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

zb/aa(AP)