1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان آسٹریلوی یورینیم کی خریداری کا خواہشمند

آسٹریلیا میں لیبر پارٹی کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے باہر کسی بھی ملک کو یورینیم کی فروخت کے فیصلے نے پاکستان کو بھی اس رعایت سے مستفید ہونے کے خواہش مند ملکوں کی فہرست میں لا کھڑا کیا ہے۔

default

آسٹریلیا میں پاکستانی ہائی کمشنر عبداللہ عبدالمالک کا کہنا ہے کہ اگر آسٹریلوی حکومت نے یہ اقدام کیا تویہ پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہو گا۔

ادھر پاکستان کے جوہری پروگرام سے وابستہ معروف سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا کہنا ہے کہ 1969ء میں جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ مغربی قوتوں نے کیا تھا اور اس کا مقصد جوہری پھیلاؤ کو روکنا تھا۔ تاہم موجودہ اقتصادی ترجیحات نے اس معاہدے کی افادیت کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ، امریکہ اور برطانیہ کی معیشتیں زبوں حالی کا شکارہیں، اس لیے ان کا مقصد اپنی معیشت مضبوط کرنا ہے۔

ڈاکٹر ثمر مبارک مند نےکہا، ‘‘بھارت کے پاس اس وقت 160 سے 170 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔ بھارت کی معیشت اوپر جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں امریکہ نے سب سے پہلے اپنی معیشت کو فروغ دینے کا سوچا کہ ہم اپنی جوہری ٹیکنالوجی بھارت کو فروخت کریں تا کہ نہ صرف نیوکلیئر انڈسٹری بہتر ہو بلکہ بھارت کے ساتھ ایسے تعلقات بن جائیں کہ ہم (امریکہ) اپنے روایتی ہتھیار اور دیگراشیاء بھی بھارتی مارکیٹ میں بیچ سکیں۔’’

Julia Gillard Australien Premierministerin Flash-Galerie

آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ

ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے مطابق امریکہ نے ایسا کر کے سب سے پہلے این پی ٹی کی خلاف ورزی کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پاکستان کے پاس بھی بھارت جتنے پیسے ہوں تو آسٹریلیا بخوشی ہمیں بھی یورینیم فروخت کرے گا۔

تاہم بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرح آسٹریلیا کی جانب سے پاکستان کےساتھ جوہری تعاون یا یورینیم کی فروخت میں ہچکچاہٹ دراصل پاکستان کے خراب تشخص کا معاملہ ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا کہنا ہے، ’’خاص طور پر اے کیو خان کا جو معاملہ ہوا، اس سے پاکستان کا امیج بہت خراب ہوا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی بڑھ گئی ہے اور خاص طور پر ایسے تھنک ٹینک، جن کے پاکستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں، وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ ملک کے جوہری اثاثے لگ جائیں تو یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کے تشخص سے تعلق رکھتی ہیں۔’’

البتہ خارجہ امور کے ماہر اور سابق سفیر اکرم ذکی کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے۔ پاکستان کے ساتھ جوہری تعاون نہ کرنے کی وجہ صرف معیشت یا خراب تشخص سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ یہ امریکہ کی اس گریٹ گیم کا حصہ ہے جس کے تحت وہ چین یا اس کے کسی خیر خواہ ملک کو دفاع کے لحاظ سے کسی بھی قسم کی مراعات نہیں دلوانا چاہتا۔

اکرم ذکی نے کہا، ’’آسٹریلیا بھی امریکہ کا اتحادی ہے اور ابھی حال ہی میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ امریکہ نے اپنی حکمت عملی میں آسٹریلیا کے دفاعی کردار کو زیادہ اہمیت دی ہے اورچین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی کے تحت آسٹریلیا میں صدر اوباما نے مزید امریکی فوجیں بھجوا دی ہیں اور ہندوستان کو ہر طرح کی مراعات دے کر چین کے خلاف تیار کیا جا رہا ہے۔’’

واضح رہے کہ امریکہ بھارت سول جوہری تعاون کے معاہدے کے بعد سے پاکستان مختلف سطح پر امریکہ سے یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ وہ اس کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ بھی بھارت کی طرز پر سول جوہری تعاون کا معاہدہ کرے تاہم امریکہ کی طرف سے اس معاملے میں دلچسپی نہ پا کر پاکستان نے چین کے ساتھ سول جوہری تعاون کا معاہدہ کر رکھا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM