1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کا چیئرمین

پاکستان جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کا چیئرمین بن گیا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے ویانا میں قائم آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کا رکن ہے اور یہ فیصلہ قواعد و ضوابط کے تحت ہی ہوا ہے۔

default

پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط نہیں کئے ہیں اور پاکستان پر جوہری ٹیکنالوجی ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو اسمگل کرنے کے الزامات بھی عائد ہیں تاہم اس کے باوجود پاکستان کو آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنز کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔

اس سے قبل مغربی سفارت کاروں نے انہی الزامات کے سائے میں کہا تھا کہ وہ اسے بہترین فیصلہ قرار نہیں دیتے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بھارت، شمالی کوریا اوراسرائیل کی طرح پاکستان نے بھی 1970ء کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پرابھی تک دستخط نہیں کیے ہیں۔

IAEA in Wien

مغربی ممالک نے چیئرمین شپ کے لیے نامزد امیدوار پاکستان کی مخالفت نہیں کی

ایک مغربی سفارت کار نے بتایا کہ پیرکے روز چیئرمین شپ کے لئے ہونے والی میٹنگ کی کارروائی بند کمرے میں ہوئی اور ابتدائی طور پر اختلاف رائے کے باوجود مغربی ممالک نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی جانب سے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی چیئرمین شپ کے لیے نامزد امیدوار پاکستان کی مخالفت نہیں کی۔

چند ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران اورشمالی کوریا پاکستان کے چیئرمین بننے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹرعبدالقدیر خان پر الزام ہے کہ انہوں نے جوہری بم تیار کرنے میں ان دونوں ممالک کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ 2004ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے اوپر لگائے گئے یہ الزامات تسلیم کر لئے تھے۔ ساتھ ہی مغربی ممالک بھی ایران اور شمالی کوریا کو جوہری ہتیھاروں کے پھلاؤ کے حوالے سے اصل خطرہ سمجھتے ہیں۔

اسٹاک ہوم میں قائم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 60 ایٹمی ہتھیارہیں جبکہ اس کے روایتی حریف بھارت کے پاس 60 سے 70۔ دونوں ممالک نے 1998 میں جوہری ٹیسٹ کئے تھے۔

Pakistan Abdul Qadeer Khan Vater der pakistanischen Atombombe

ڈاکٹرعبدالقدیر خان پر الزام ہے کہ انہوں نے جوہری بم تیار کرنے میں ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ تعاون کیا تھا

اقوام متحدہ نے حال ہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں پاکستان پر تابکار مادے کی تیاری روکنے کے لئے ایک معاہدے پردستخط کرنے کے لئے دباؤ ڈالا تھا۔ تاہم پاکستان کا مؤقف تھا کہ اگر اس نے جوہری ہتھاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے مادےکی پیداوار روک دی توبھارت کو اس شعبے میں اس پرسبقت حاصل ہو جائے گی۔ اس انکار کے ساتھ ہی معاملہ وہیں ختم ہو گیا تھا۔

آئی اے ای اے کے سربراہ کے عہدے پر ایک سال کی مدت کے لئے تمام خطوں سے ایک نمائندہ ملک کو منتخب کیا جاتا ہے۔ اس وقت یہ عہدہ ملائیشیا کے پاس ہے۔ تاہم اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد پاکستان کو اقوام متحدہ کی جوہری پالیسی کے حوالے سےکوئی خاص اختیارات حاصل نہیں ہوں گے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : افسر اعوان