1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی ہیلی کاپٹر کا افغان طالبان کے زیر قبضہ عملہ رہا

افغانستان میں اسی مہینے کریش لینڈنگ کرنے والے ایک پاکستانی ہیلی کاپٹر کا افغان طالبان کے زیر قبضہ چھ رکنی عملہ اپنی رہائی کے بعد واپس پاکستان پہنچ گیا ہے۔ عملے کی واپسی کی پاکستانی وزارت خارجہ نے تصدیق کر دی ہے۔

پاکستانی دارالحکومت سے ہفتہ تیرہ اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان کے اس سرکاری ہیلی کاپٹر کو، جس میں ایک روسی شہری اور پانچ پاکستانیوں سمیت کل چھ افراد سوار تھے، چار اگست کو افغانستان میں ایک تکنیکی خرابی کے بعد اچانک کریش لینڈنگ کرنا پڑ گئی تھی۔

مشرقی افغانستان میں کریش لینڈنگ کے بعد وہاں موجود طالبان عسکریت پسندوں نے ان چھ افراد کو اپنی حراست میں لے لیا تھا۔ شروع میں یہ واضح نہیں تھا کہ یہ عملہ کہاں اور کس کی حراست میں ہے۔

افغان حکام نے تاہم چند گھنٹوں بعد کہا تھا کہ ان چھ افراد کو طالبان یرغمال بنا کر اپنے ساتھ کہیں لے گئے تھے۔

اس بارے میں پاکستانی دفتر خارجہ کے آج ہفتے کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ’’ان پانچ پاکستانیوں اور ایک روسی شہری کو کریش لینڈنگ کے بعد حراست میں لے لیا گیا تھا، جو اپنی رہائی کے بعد اب واپس اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔‘‘

بیان کے مطابق اس عملے کی رہائی ’پاکستانی اور افغان قبائلی رہنماؤں کی مدد‘ سے عمل میں آئی۔

پاکستانی حکام نے اگرچہ یہ نہیں بتایا کہ ان چھ افراد کو کس گروپ نے اپنے قبضے میں لے رکھا تھا، تاہم اس واقعے کے بعد افغان صوبے لوگر کے گورنر کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ہیلی کاپٹر کا لاپتہ ہو جانے والا عملہ ایک ایسے علاقے میں افغان طالبان کے قبضے میں تھا، جو لوگر کی صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں تھا۔

Pakistan Transport der sterblichen Überresten nach dem Absturz des MI-17 Hubschraubers

روسی ساخت کا ایک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر کو مرمت اور دیکھ بھال کے لیے پشاور سے ازبکستان جا رہا تھا

پاکستانی صوبہ پنجاب کی حکومت کا روسی ساخت کا یہ ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر اس میں سوار پاکستانیوں اور ایک روسی نیویگیٹر کو لیے مرمت اور دیکھ بھال کے لیے پشاور سے ازبکستان جا رہا تھا کہ اسے کریش لینڈنگ کرنا پڑ گئی تھی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹد پریس کے مطابق اس پاکستانی ہیلی کاپٹر کے عملے کی رہائی اور وطن واپسی اسلام آباد کے اس موقف کے دو روز بعد عمل میں آئی، جس میں جمعرات گیارہ اگست کو کہا گیا تھا کہ کابل حکومت نے پاکستان کو اطلاع دی تھی کہ یہ چھ افراد زندہ اور بخیریت تھے اور افغان حکومت ان کی رہائی کے لیے کوشاں تھی۔