1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ

پاکستان کے تین اہم ہوائی اڈوں کو غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکے پر دینے کے خلاف سول ایوی ایشن کی یونین نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ پٹیشن کے مطابق  ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ سے ملکی سلامتی کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔

سول ایویشن کی سی بی اے کے چیئرمین راؤ محمد اسلم نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کا حکومت نے پروگرام بنایا۔ میں نے انتظامیہ کو تین سے چار خطوط لکھے، جس میں میں نے پوچھا کہ ہمیں اس کی تفصیلات بتائی جائیں لیکن ہمیں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اب اس کے ٹینڈر کا اشتہار آ گیا ہے تو ہم نے عدالت سے اس عمل کو رکوانے کی استدعا کی ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ان ایئر پورٹس نے دو ہزار پندرہ میں 65 بلین روپے کا منافع دیا جب کہ دو ہزار سولہ میں یہ منافع تقریباً پچاسی بلین روپے تھا۔ اتنے منافع میں چلنے والے اداروں کی آؤٹ سورسنگ سمجھ سے باہر ہے۔ کراچی ایئر پورٹ کو ٹھیکے پر لینے کے لیے ایک چینی کمپنی نے دورہ کیا ہے۔ لاہور ایئرپورٹ کو لینے میں ترکی کی ایک کمپنی نے دلچسپی ظاہر کی ہے اور انہوں اس کا دورہ بھی کیا ہے جبکہ اسلام آباد کے لیے ایک عرب ملک کی ایک کمپنی سرگرم ہے۔‘‘

Lahore Flughafen Abflughalle (Tanvir Shahzad)


راؤ محمد اسلم نے دعویٰ کیا کہ سن 1982کے سول ایویشن آرڈیننس کے مطابق ایئر پورٹ کسی غیر ملکی کو اس طرح آؤٹ سورس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا گہرا تعلق ہماری سکیورٹی سے ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ملک کے لیے سلامتی کے شدید خدشات ہو سکتے ہیں۔‘‘
اس معاملے کی گونج اب پاکستانی پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ہے۔ اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی پی پی کے سینیٹر تاج حیدر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میں نے یہ مسئلہ تقریباً بیس دن پہلے سینیٹ میں اٹھایا تھا لیکن حکومتی لوگوں نے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ نیشنل سیکورٹی کے حامل ان ایئر پورٹس کو آؤٹ سورس کیا جائے۔ پھر میں نے انہیں بعد میں اشتہارات دکھائے۔ اب یہ معاملہ اس منگل کو ایوان کی کمیٹی میں اٹھایا جائے گا۔ ہماری پارٹی اس کی بھر پور مخالفت کرے گی۔‘‘
اس آؤٹ سورسنگ کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے سلامتی امور کے تجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ ہماری قومی سلامتی کے لیے انتہائی منفی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہمارے ایئر پورٹ کے ایک حصے میں عموماً فوجی ایئر بیس بھی ہوتی ہے، جیسے کہ اسلام آباد ایئر پورٹ پر نورخان ایئر بیس ہے۔ اگر ہم یہ آؤٹ سورس کر دیں تو غیر ملکی یہاں کئی devices لگا سکتے ہیں۔ آپکی ایئر ٹریفک کو کنڑول کر سکتے ہیں اور ان کے لیے یہ جاننا بھی مشکل نہیں ہوگا کہ ایئر پورٹس پر کس طرح کے فوجی یا دیگر طیارے کھڑے ہیں۔ دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ اتنی اہم جگہوں کو آؤٹ سورس کریں یا غیر ملکیوں کو دیں۔ بھارت میں بھی بہت غربت ہے لیکن وہ تو اپنے قومی اثاثے اس طرح نہیں بیچ رہے۔ یہاں تک کہ چین کو بھی یہ ایئر پورٹس چاہییں ہوں تو ہمیں نہیں دینا چاہییں بلکہ ہمیں تجویز کرنا چاہیے کہ وہ کسی اور روٹ پر نیا ایئر پورٹ بنا لیں۔ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ اس طرح کے فیصلوں سے ہماری سیکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔‘‘

Lahore Flughafen International Airport (Tanvir Shahzad)


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا،’’ہم نے پہلے ہی غیر ملکیوں کو بہت چھوٹ دی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں امریکیوں کو ایک برتھ دی گئی، جب کہ مشرف کے دور میں تو انتہا کر دی گئی۔ ایئر بیس امریکیوں کو دی گئیں، جس سے ہمیں شدید نقصان ہوا۔ یہاں تک کہ امریکا کی فرمائش پر حیدرآباد ایئر پورٹ بھی بند کردیا گیا تھا۔ جدید دور میں فضائی برتری جنگ میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس طرح کے فیصلوں سے ہماری فضائیہ کو نقصان ہوسکتا ہے۔ لہذا ہمیں کسی بھی قیمت پر ان قومی اثاثوں کو غیر ملکیوں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
سول ایویشن کے ترجمان نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ لہذا میں اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔‘‘ تاہم سول ایوی ایشن کے ایک اہم عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ایئر پورٹس بالکل نہیں بیچے جارہے ہیں۔ یہ پاکستان کی ملکیت ہیں اور رہیں گے۔ صرف ان کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے انہیں آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے۔‘‘
لیکن ملازمین ان تسلیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ سول ایوی ایشن سی بی اے کے نائب صدر خالد شیخ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’دنیا بھر میں آؤٹ سورسنگ میں یہ ہوتا ہے کہ ٹھیکے دار افرادی قوت فراہم کرتا ہے اور یہ افرادی قوت ادارے کی صوابدید پر ہوتی ہے کہ وہ انہیں کیسے استعمال کریں لیکن یہاں معاملہ الٹا ہے۔ یہاں ٹھیکے دار کمپنیوں کو انتظامی کنڑول دیا جا رہا ہے اور سول ایویشن کے ملازمین ان کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ اگر وہ چاہیں گے تو انہیں رکھیں ورنہ سی اے اے تو ان کو ریٹائرڈ کر دے گی یا پھر ان کا تبادلہ دور دراز علاقوں میں کر دے گی۔ تو ملازمین میں اس حوالے سے کافی تشویش ہے۔‘‘