1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستانی کھلاڑیوں کی اپیلوں کی سماعت دوحہ میں

پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے تین ارکان سلمان بٹ،محمد عامر اور محمد آصف کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے تحت سنائی گئی سزا پر ان کھلاڑیوں کی اپیلوں کی سماعت دوحہ میں30اور 31 اکتوبر کو ہو گی۔

default

پاکستانی ٹیم کے ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ پر بھی سپاٹ فکسنگ کا الزام ہے

ان تینوں پاکستانی کھلاڑیوں کو سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے تحت معطل کر دیا گیا تھا۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسلICCنے آج بدھ کے روز بتایا کہ اس ادارے کے ضابطہ اخلاق سے متعلق کمیشن کے سربراہ مائیکل بیلوف ان تینوں کھلاڑیوں کی عبوری معطلی کے خلاف اپیلوں کی سماعت کریں گے۔ پاکستانی ٹیم کے ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بالرز محمد آصف اور محمد عامر کو دو ستمبر کوICCکے بدعنوانی کے خلاف ضابطہ اخلاق کے تحت متعدد الزامات کی وجہ سے ہر قسم کی کرکٹ سے معطل کر دیا گیا ہے۔

ان تینوں پاکستانی کھلاریوں کے خلاف برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کی طرف سے کئے گئے انکشافات اور پھر ICC کی اینٹی کرپشن اور سکیورٹی یونٹ کی طرف سے کی گئی چھان بین کے بعد لگائے گئے تھے۔

Mohammad Asif

اس الزام کے بعد ان کھلاڑیوں پر پابندی عائد کر دی گئی

ان تینوں کھلاڑیوں پر الزام ہے کہ وہ پاکستانی قومی ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے دوران سپاٹ فکسنگ کے مرتکب ہوئے تھے۔ ICCکے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگارٹ نے بتایا کہ ان تینوں کھلاڑیوں کی طرف سے دائر کی جانے والی علیحدہ علیحدہ اپیلیں ملنے کے بعد ICC نے جلد از جلد سماعت کے لیے کوششیں شروع کر دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے بدعنوانی کے خلاف ضابطوں کے تحت ان تینوں کھلاڑیوں کی اپیلوں کی مکمل غیر جانبداری کے ساتھ سماعت کی جائے گی۔ اُن کے مطابق انہوں نے تمام فریقوں سے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے یہ سماعت دوحہ ، قطر میں کی جائے گی۔

ہارون لورگارٹ نے کہا کہ یہ بات نظرانداز نہیں کی جانی چاہیے کہ سلمان بٹ محمد عامر اور محمد آصف کی اپیلوں کی یہ سماعت ان کی عبوری معطلی کے خلاف کی جائے گی۔ اور اس کاروائی میں ان کھلاڑیوں کے خلاف سنجیدہ نوعیت کے ان الزامت پر کوئی غور نہیں کیا جائے گا جو دو ستمبر کو ان کے خلاف لگائے گئے تھے ۔

ہارون لورگارٹ نے زور دے کر کہا کہ ICC اپنے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد میں منصفانہ اور غیرجانبدارانہ طریقہ کار کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ لیکن کرکٹ کے کھیل کی ساکھ کسی بھی حال میں خراب نہیں ہونے دی جائے گی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت:کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس