1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندیاں عائد

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ ، محمد آصف اور محمد عامر کو قصور وار پاتے ہوئے ان پر بالترتیب دس، سات اور پانچ سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔

default

اٹھارہ سالہ محمد عامر

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سماعت کے بعد سابق پاکستانی کپتان سلمان بٹ پر دس سال کی پابندی عائد کی گئی جس میں سے پانچ سال معطل کردئے گئے۔ تیز گیند باز محمد آصف پر سات سال کی پابندی عائد کی گئی جس میں سے دو سال معطل کئے گئے۔ نوجوان فاسٹ باؤلر محمد عامر پر پانچ سال تک بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیلنے کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

Kombo Pakistan Cricket Korruption Salman Butt Mohammad Asif und Mohammad Amir

ان کھلاڑیوں کی جو سزا معطل کی گئی ہے اس کی شرط یہ ہے کہ کھلاڑی مستقبل میں آئی سی سی کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کریں گے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے تحت انسداد بدعنوانی کے تربیتی پروگرام میں حصہ لیں گے۔ کھلاڑی اس سزا کے خلاف 21 دن کے اندر اپیل کرسکتے ہیں۔

آئی سی سی میں انسداد بد عنوانی کے خصوصی ٹریبیونل کے سربراہ مائیکل بیلوف نے ان پابندیوں کے اطلاق کا اعلان کیا۔ کھلاڑیوں کے وکلاء نے یہ فیصلہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے برطانیہ میں جاری کریمینل کیس پر اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ تینوں پاکستانی کھلاڑی گزشتہ اگست میں سامنے آنے والے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد 3 ستمبر 2010ء سے بین الاقوامی کرکٹ سے دور ہیں۔ سپاٹ فکسنگ کا تنازعہ اگست 2010ء میں لارڈز ٹیسٹ سے متعلق ہے جو انگلینڈ کے خلاف کھیلا جارہا تھا۔ برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے اس میچ میں پاکستانی فاسٹ باؤلرز محمد آصف اور محمد عامر کی جانب سے پھینکی گئی نوبالز کو پہلے سے طے شدہ سپاٹ فکسنگ کا حصہ قرار دیا تھا۔ اس سلسلے میں ان کھلاڑیوں کے ایجنٹ مظہر مجید کو بھی ملوث قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد آئی سی سی نے تحقیقات شروع کی تھیں۔

Salim Malik

سابق پاکستانی کرکٹر سلیم ملک

سلمان بٹ اس میچ میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ کرکٹ کا کھیل اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے واقعات سے داغدار ہوچکا ہے۔ آئی سی سی نے 2000ء میں پاکستان کے سلیم ملک، عطاء الرحمان جبکہ بھارت کے اظہر الدین اور اجے شرما اور جنوبی افریقہ کے ہینسی کرونئے پر پابندی کی تھی۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM