1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پاکستانی کلاسیکی فلم،  بھارتی فلمی میلے سے باہر

بھارتی فلم فیسٹیول میں ایک پاکستانی کلاسیکل فلم ’جاگو ہوا سویرا ‘کی نمائش کو مظاہرین کی دھمکیوں کے بعد فلمی میلے میں دکھائی جانے والی فلموں کی فہرست سے خارج کر دیاگیا ہے۔

مظاہرین نے فلم فیسٹیول کی انتظامیہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستانی فلم کی نمائش نہ روکی گئی تو فلمی میلے کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔ مامی ممبئی فیسٹیول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ  میلے میں نمائش کے لیے منتخب کی گئی سن انیس سو انسٹھ میں ریلیز ہونے والی پاکستانی کلاسیکی فلم’جاگو ہوا سویرا‘ نہیں دکھائی جائے گی۔ ایم ایم ایف کے مطابق یہ فیصلہ ’سنگھرش ‘ نامی ایک بھارتی این جی او کی شکایت کے بعد کیا گیا ہے۔

 سنگھرش کا موقف ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انیس بھارتی فوجیوں کی مشتبہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بھارتی فلمی میلے میں پاکستانی فلم کی نمائش غیر مناسب ہے۔ فیسٹیول کے منتظمین کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے میلے میں کلاسیکی فلموں کے سیکشن میں منتخب پاکستانی فلم ’جاگو ہوا سویرا‘ کی نمائش روک دی گئی ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے بھارتی سینما کے ایک گروہ کی جانب سے  بھی کہا گیا تھا کہ اُڑی چھاؤنی پر حملے کے تناظر میں کسی بھی پاکستانی فنکار پر فلمائی گئی فلم کی بھارت میں نمائش نہیں کی جائے گی۔ گزشتہ ماہ کی اٹھارہ تاریخ کو بھارت کی اُڑی فوجی چھاؤنی پر مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملے کے ردّ عمل کے طور پر ایک انتہا پسند سیاسی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا’ ایم این ایس‘ نے پاکستانی فنکاروں کو اڑتالیس گھنٹے کے اندر بھارت چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔

ایم این ایس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ وہ ممتاز فلم ہدایتکار کرن جوہر کی پروڈیوس کی جانے والی فلم ’اے دل ہے مشکل ‘ اور ایک دوسری فلم ’رئیس‘ کو بھی ریلیز نہیں ہونے دیں گے کیوں کہ ان فلموں میں پاکستانی اداکار فواد خان اور اداکارہ ماہرہ خان کو کاسٹ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ دونوں پڑوسی جوہری صلاحیت کے حامل ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ ستمبر میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے اڑی کے علاقے میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں 19 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ بھارتی حکومت اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتی ہے، تاہم اسلام آباد حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔    

DW.COM