1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی کشمیر میں عوام زیر زمین بنکر تعمیر کرنے میں مصروف

پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے رہائشی ان دنوں زیر زمین محفوظ پناہ گاہیں تعمیر کرنے میں لگے ہیں۔ 1990ء کی دہائی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ عوام سرحد پار فائرنگ کے خطرے کے پیش نظر ایسا کر رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان 2003ء میں ہونے والے سیزفائر معاہدے کے بعد سے ان دونوں جوہری طاقت کے حامل ہمسایہ ممالک کے درمیان ان دنوں شدید ترین کشیدگی موجود ہے۔

حالیہ چند ماہ کے دوران متنازعہ وادی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے آر پار دونوں ممالک کی افواج کی طرف سے فائرنگ اور شیلنگ کے باعث درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں فوجیوں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔

فوجی بیس پر حملہ، سات بھارتی فوجی ہلاک

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستانی زیرانتظام کشمیر کی وادی نیلم کے باسیوں کا کہنا ہے کہ بھارتی افواج کی طرف سے سرحد پار فائرنگ اور شیلنگ کے واقعات ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ ہوتے رہتے ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہوتا ہے کہ کب انہیں محفوظ جگہ پر پناہ لینی پڑے۔

ایک مقامی مِستری غلام حسین نے اے ایف پی کو بتایا کہ آج کل اس کے پاس کام کافی زیادہ ہے اور وہ ایک جگہ زیر زمین محفوظ پناہ گاہ کی تعمیر کرتا ہے اور اپنا سامان اٹھا کر دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے۔

پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں پانچ لاکھ کے قریب عوام جن علاقوں میں رہتے ہیں وہ بھارتی افواج کی فائرنگ رینج میں آتے ہیں۔ یہ بات پاکستانی کشمیر کے ایک رہنما فاروق حیدر خان نے اے ایف پی کو بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ’’کمیونٹی بنکرز‘‘ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رواں برس ستمبر میں بھارتی زیرانتظام کشمیر میں اڑی کے مقام پر بھارتی فوج کے ایک اڈے پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کافی کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ اس حملے میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت کا الزام تھا کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے تاہم اسلام آباد حکومت ان الزامات کو رد کرتی ہے۔ اسی واقعے کے بعد دونوں ممالک کی افواج کی طرف سے سرحد پار فائرنگ او شیلنگ کا سلسلہ چلتا رہا ہے۔

منگل 29 نومبر کو عسکریت پسندوں نے ایک بار پھر بھارتی زیر انتظام کشمیر میں نگروٹا کے مقام پر بھارتی فوج کی ایک بیس کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں سات بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔

دونوں ہمسایہ جوہری طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں صرف عوام ہی متاثر نہیں ہیں بلکہ وہاں کی سیاحت کی صنعت بھی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ایک مقامی اہلکار سردار عبدالوحید کے مطابق رواں برس وادی نیلم میں سیاحت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

DW.COM