1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو عبرت ناک شکست

نیوزی لینڈ کے دارالحکومت ویلنگٹن میں میزبان ٹیم نے پاکستانی ٹیم کو تیسرے ٹونٹی ٹونٹی میچ میں 95 رنز سے ہرا کر میچ اور سیریز جیت لی ہے۔

شروع سے آخر تک یکطرفہ مقابلہ

آج جمعہ 22 جنوری کو ویسٹ پیک میں کھیلے گئے اس تیسرے میچ کی پہلی ہی گیند پر کیوی اوپنر مارٹن گُپٹل نے عمر گل کی جگہ لینے والے انور علی کو چوکا لگایا۔ گپٹل کے چوکے سے وہاب ریاض کے وکٹ کیپر لیوک رونکی کا شکار بننے تک اس ٹونٹی ٹونٹی میچ میں نیوزی لینڈ کا پلڑا بھاری رہا۔ 95 رنز کے فرق سے یہ پاکستان کی ایک بڑی ناکامی تھی کی۔

پاکستانی بیٹنگ ناکام

ویلنگٹن کے برقی قمقموں کی روشنیوں میں پاکستانی بلے باز کیوی بالرز کی پھینکی گئی گیندوں کو ڈھونڈتے ہی رہ گئے اور گیارہ میں سے نو کھلاڑی ڈبل فگر تک بھی نہ پہنچ سکے۔ وکٹ کیپر سرفراز احمد کی 41 رنز کی مزاحمت کے بعد دوسرا بڑا اسکور 14 رہا جو شعیب ملک کا تھا۔ نو پاکستانی کیچ آؤٹ ہوئے جو اس بات کا ثبوت تھا کہ ویسٹ پیک کی باؤنسی پچ اور تیز ہواؤں نے ان کے اوسان خطا کر دیے تھے۔ محمد رضوان بچگانہ انداز میں رن آوٹ ہوئے۔ اس طرح رن آؤٹ کے وائرس سے ٹیم نئے سال میں بھی چھٹکارا نہ پا سکی۔

پہلی ہی گیند پر کیوی اوپنر مارٹن گُپٹل نے انور علی کو چوکا لگایا

پہلی ہی گیند پر کیوی اوپنر مارٹن گُپٹل نے انور علی کو چوکا لگایا

احمد شہزاد کی ٹونٹی ٹونٹی میں پرفارمنس پر سوالیہ نشان؟

پاکستانی اوپنراحمد شہزاد ایک عرصے سے ٹونٹی ٹونٹی میں ٹیم پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ جمعہ کو وہ باؤنڈری پر کیچ ہونے سے پہلے آٹھ رنز بنا سکے۔ اس طرح گز شتہ آٹھ ٹی ٹونٹی میچوں میں وہ کُل چھیانوے رنز بنا سکے ہیں۔ اس کے بعد یہ سوال شدت سے سامنے آرہا ہے کہ آیا وہ واقعی ٹونٹی ٹونٹی اوپنر ہیں یا نہیں؟ عام خیال یہی ہے کہ گزشتہ سیزن کے دوران سر میں گیند لگنے کے بعد احمد کی بیٹنگ میں پہلے جیسی بات نہیں رہی اور انہیں کپتان شاہد آفریدی سے دوستی کی وجہ سے کھلایا جا رہا ہے۔ سابق پاکستانی کپتان محمد یوسف کا کہنا کہ کئی کھلاڑیوں کو یقین ہوچکا ہے کہ وہ ٹیم سے ڈراپ نہیں ہوسکتے اس لیے انہیں ٹیم کی کوئی پرواہ نہیں۔ یوسف کا اشارہ احمد شہزاد کی طرف ہی ہے۔

جن پہ تکیہ تھا وہ پتے بھی ہوا دے گئے

سلیکٹرز نے محمد عامر کو بطور اٹیک لیڈر ٹیم میں شامل کیا تھا مگر ان کی اس سیریز میں ایک وکٹ کی قیمت پاکستان کو پورے سو رنز سے چکانا پڑی۔ پاکستان کی طرف سے چار فاسٹ بالرز وہاب ریاض، محمد عامر، عمر گُل اور محمد انور تین میچوں میں صرف آٹھ وکٹیں لے سکے جبکہ نیوزی لینڈ کی طرف سے یہ کام تن تہنا ایڈم ملن نے کیا۔ وہاب ریاض نے سب سے زیادہ پانچ وکٹیں ضرور لیں لیکن تمام پاکستانی پیسرز کا اکانومی ریٹ فی اوور نو سے زیادہ تھا۔ سابق کپتان رمیز راجہ کا خِیال ہے کہ وہاب ریاض توقعات پر پورا نہیں اترسکے۔ انکے بقول نیوزی لینڈ کی ڈراپ ان پچز پر اسپنرز کا استعمال زیادہ ہوتا تو بہترتھا۔

شاہد آفریدی کا آخری میچ، کمنٹیٹر بننے کی ٹھان لی

پاکستانی ٹی ٹونٹی کپتان شاہد آفریدی کا یہ ایشیا کے باہرآخری بین الاقوامی میچ تھا جس میں آٹھ رنز، ایک وکٹ اور ٹاس جیت کر پہلے بالنگ کے غلط فیصلے کے علاوہ وہ کچھ نہ کرسکے۔ میچ کے اختتام پر آفریدی نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب پہلے چھ اوورز میں پانچ بیٹسمین پویلین واپس پہنچ جائیں تو کیا کیا جا سکتا۔ آفریدی کے بقول ان کی ٹیم نے سنگین غلطیاں کیں اور اگر ان پر قابو نہ پایا گیا تو ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ ان کا نیوزی لینڈ کا آخری دورہ ہرگزنہیں مستقبل میں وہ کمنٹیٹر بن کر کیویز کے دیس آئیں گے۔

پاکستان کی طرف سے چار فاسٹ بالرز وہاب ریاض، محمد عامر، عمر گُل اور محمد انور تین میچوں میں صرف آٹھ وکٹیں لے سکے

پاکستان کی طرف سے چار فاسٹ بالرز وہاب ریاض، محمد عامر، عمر گُل اور محمد انور تین میچوں میں صرف آٹھ وکٹیں لے سکے

میرٹ کا قتل عام

سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف کا اس شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں لیکن سلیکشن میں پسند نا پسند اور میرٹ کا قتل عام ہونے کہ وجہ سے ہمیں یہ دن دیکھنا پڑا۔ محمد عرفان کا ڈراپ ہونا اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ راشد نے کہا کہ پاکستان نے خلیج کے باہر کافی عرصے سے بڑی ٹیموں کا مقابلہ نہیں کیا اس لیے اب مشکل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہم سری لنکا اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کے خلاف میچ سے پہلے میٹنگ کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے لیکن اب یہ ٹیمیں ہم سے آگے نکل گئی ہیں۔

پاکستان ٹیم کی اگلی آزمائش

پاکستان کو اب تین ایک روزہ میچوں میں نیوزی لینڈ کا سامنا کرنا ہے۔ پیر 25 جنوری کو ہونے والے پہلے ون ڈے میں اظہر علی ٹیم کے کپتان ہوں گے۔ اس ڈے میچ میں نیوزی لینڈ کو بدستور زخمی برینڈن میکلم اور ٹِم ساوتھی کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی۔