1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستانی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ کے دورے پر

پاکستانی ٹیم اگلے دنوں میں نیوزی لینڈ کے دورے پر ہو گی۔ اس دورے میں ٹیسٹ اور محدود اوورز کے میچ شامل ہیں۔ یہ دورہ ایک طرح سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لئے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لئے بھی سنہرا موقع خیال کیا جا رہا ہے۔

default

شاہد آفریدی: فائل فوٹو

پاکستانی کرکٹ ٹیم جمعرات سے 49روزہ دورہ نیوزی لینڈ کا آغاز کر رہی ہے جس میں دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹونٹی0،دو ٹیسٹ اور چھ ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیلے جائیں گی۔

پاکستانی کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کی فارم سے قطع نظر اسے ہوم گراؤنڈ پر شکست دینا آسان نہ ہوگا۔ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے آفریدی نے کہا کہ نیوزی لینڈ کا ریکارڈ دنیا کی ہر ٹیم کے خلاف اپنی سرزمین پر اچھا ہے مگر اب دونوں ٹیموں کا کامیابی کی تلاش ہے اسلئے شائقین کو سیریز کے دوران اچھے مقابلے دیکھنے کو ملیں گی۔

Shoaib Akhtar Pakistan Cricket Akademie

شعیب اختر کی فارم نیوزی لینڈ میں اہم ہو گی

ماضی میں پاکستان کو ہر طرز کی کرکٹ میں نیوزی لینڈ پر ہمیشہ برتری رہی جبکہ حال ہی میں میزبان ملک کو بنگلہ دیش اور بھارت کے ہاتھوں وائٹ واش ہونا پڑا۔ مسلسل گیارہ ون ڈے میچ ہارنے والی ٹیم کے خلاف میدان میں اترتے ہوئے بھی کوچ وقار یونس کسی قسم کی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہتی۔وقار کا کہنا ہے کہ بسا اوقات ہاری ہوئی ٹیم کے خلاف سیریز زیادہ مشکل ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ ٹیم دوبارہ اپنا لوہا منوانے کے لئے کوشاں ہوتی ہی۔ وقار نے کہا کہ پاکستانی ٹیم جیت کے لئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرے گی۔

Waqar Younis Pakistan Trainer

پاکستانی ٹیم کے کوچ، وقار یونس

سابق کپتان اور 1982میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے کیرئیر کی شاندار شروعات کرنے والے رمیز راجہ سیریز میں پاکستان کو فیورٹ سمجھتے ہیں ۔ رمیز کا خیال ہے نیوزی لینڈ کی سلو وکٹوں پر پاکستان کو اچھا کھیلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا جنوبی افریقہ کے سیریز ڈرا کرنے سے پاکستانی کھلاڑیوں کا مورال بلند ہے جبکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم بھارت سے ہارنے کے بعد دباؤ میں ہوگی۔ رمیز کے مطابق پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں ابھی خود مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہی۔

امسال پاکستان ٹیم کا کپتان بننے کے بعد سے شاہدآفریدی کی ذاتی کارکردگی تنزلی کا شکار ہی۔ آفریدی نے اپنی قیادت میں 12ٹونٹی میچوں میں صرف55رنز بنائے اور گیارہ وکٹیں لیں جبکہ 13ون ڈے میچوں میں چودہ وکٹیں لے سکے۔ کپتان آخری دس ون ڈے میچوں میں نصف سینچری تک بھی رسائی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے۔ اس بارے میں آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ اب ٹیم اور کھلاڑیوں کے تمام معاملات کوچ وقار یونس کو سونپ کر اپنی ذاتی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں جو کہ ٹیم کی جیت کے لئے از حد ضروری ہی۔

دریں اثنا پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان ندیم سرور نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی کپ کے 30ممکنہ کھلاڑیوں کے اعلان کے لئے آئی سی سی سے 5جنوری تک مہلت لینے کی تصدیق کی ہی۔ ممکنہ کھلاڑیوں کے اعلان کی ڈیڈ لائن 19دسمبر تھی مگر پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے قبل سپاٹ فکسنگ کا شبہ دور کرنے کرنے کے لئے وکٹ کیپر کامران اکمل اور شعیب ملک کی منقولہ و غیر منقولہ جائداد کی چھان بین کرنا چاہتا ہے۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت، عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس