1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستانی کرکٹ ٹیم نو سال بعد بنگلہ دیش کے دورے پر

پاکستان کرکٹ ٹیم دو ہزار دو کے بعد اپنے بنگلہ دیش کے پہلے باقاعدہ دورے کا آغاز منگل کو ڈھاکہ میں ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میچ سے کر رہی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اس دورے میں تین ون ڈے اور دو ٹیسٹ میچز بھی کھیلے جائیں گے۔

default

پاکستان نے حال ہی میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی سیریز جیتی ہے جو دو ہزار پانچ کے بعد سے اس کی عالمی رینکنگ میں خود سے طاقتور حریف کےخلاف پہلی کامیابی ہے۔ اس لیے اب بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان کی جیت کونوشتہ دیوار سمجھا جا رہا ہے۔ اس بارے میں ماضی کے نامور پاکستانی کرکٹر باسط علی کہتے ہیں کہ سری لنکا کو ہرانے کے بعد بنگلہ دیش کو زیر کرنے میں پاکستانی ٹیم کو زیادہ دقت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستانی ٹیم تنازعات اور گروپنگ کے دور سے نکل آئی ہے اور مصباح کی قیادت میں متحد ہو کر شاندار کھیل پیش کر ہی ہے اس لیے یہ ٹیم آنے والے مہینوں میں بنگلہ دیش کے لیے ہی نہیں دنیا کی ہر ٹیم کے لیے مشکل حریف ثابت ہو گی۔

Pakistan Cricket Mohammad Talha

عالمی کپ کو سامنے رکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کا اچھا موقع تھا

بنگلہ دیش کے دورے میں بھی پاکستانی ٹیم کی امیدوں کا بڑا مرکزسعید اجمل، شاہد آفریدی اور محمد حفیظ پر مشتمل سپن اٹیک ہوگا۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے آف اسپنر سعید اجمل کو گزشتہ ہفتے ہی آئی سی سی نے ون ڈے کرکٹ میں دنیا کا نمبر ون بالر قراردیا ہے۔

چیف سلیکٹر محمد الیاس نے ٹیم کی اعلیٰ کارکردگی کو اپنی نگرانی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی کی کارگزاری سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ ہرکھلاڑی کو علم ہو چکا ہے کہ اس کا متبادل باہر بیٹھا کھیلنے کا منتظر ہے۔ جب ایسی صورتحال ہوتی ہے توکوئی بھی کرکٹر سہل پسندی کا شکار نہیں ہوتا اور یہی اس ٹیم کی کامیابی کا سبب ہے۔

غور طلب بات یہ ہے چیف سلیکٹر محمد الیاس جواوپنرعمران فرحت کے سسر بھی ہیں امارات اور اس کے بعد بنگلہ دیش کے دورے میں ون ڈے سیریز میں تیسرا اوپنر ٹیم میں شامل نہ کرنے کہ وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں۔ بعض حلقے الزام لگاتے ہیں کہ یہ اقدام ہر صورت عمران فرحت کو پلینگ الیون کا حصہ بنانے کی غرض سے کیا گیا ہے۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد الیاس کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کی تنقید کی پرواہ نہیں کرتے کیونکہ ان نام نہاد مبصرین میں سے کبھی کسی نے زندگی میں کرکٹ بیٹ نہیں دیکھا۔ جب ان پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا تو یہ وار کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ساٹھ کے عشرے میں پاکستان کی طرف سے سے دس ٹیسٹ کھیلنے والے محمد الیاس بنگلہ دیش کے خلاف وائٹ واش کا دعویٰ کرنے کو بھی تیار نہیں اور کہتے ہیں کہ اس دورے میں جیت ہی کافی ہوگی کیونکہ دنیا کی کسی ٹیم کو کرکٹ میں کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔

Pakistan Cricket Saeed Ajmal

سعید اجمل کو گزشتہ ہفتے ہی آئی سی سی نے ون ڈے کرکٹ میں دنیا کا نمبر ون بالر قراردیا ہے

پاکستان نے فاسٹ بالر جنید خان کی جگہ میڈیم پیسر محمد خلیل کو ٹیم میں شامل کیا ہے تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ناصر جمشید اور اویس ضیاء کو حیران کن طور پر پھر نظر انداز کر دیا گیا۔ کرکٹ کے زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی کپ دو ہزار پندرہ کو سامنے رکھتے ہوئے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کا اچھا موقع تھا، جس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ اس بابت باسط علی کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش جیسی ٹیم کے خلاف بلاول بھٹی سمیت ایک دو ابھرتے ہوئے پرفامرز کو کھلانا چاہیے تھا کیونکہ یہ تجربہ نوجوان کھلاڑیوں کے کام آتا کیونکہ یہی جواں سال کرکٹرز ملک کا اثاثہ بنتے۔

اس کے برعکس چیف سلیکٹرمحمد الیاس کوآنے والےکل سے آج اور ابھی کی فکر زیادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں جب آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ نے بھی زمبابوے کے دورے میں اپنی مضبوط ٹیمیں اتاریں تھیں کیونکہ آج کل عالمی رینکنگ اہم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلے سال ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بیس کھلاڑیوں کی نامزدگی پر غور کرر ہے ہیں لیکن دو ہزار پندرہ ورلڈ کپ بہت دور ہے اس لیے کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے درمیان اب تک کھیلے گئے چھ ٹیسٹ اور تین ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کی جیت کا ریکارڈ سو فیصد ہے جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے 62 ون ڈے میچوں میں بھی بنگلہ دیشی ٹیم صرف ورلڈکپ ننانوے کا نارتھپٹن معرکہ ہی مار سکی ہے۔

رپورٹ : طارق سعید ،لاہور

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM