1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستانی کرکٹ ٹیم فرش سےعرش کی طرف

پاکستانی ٹیم بدھ23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر ڈھاکہ میں ہونے والے پہلے کوارٹر فائنل میں 1975ء اور1979ء کے ورلڈ کپ کی فاتح ویسٹ انڈیز کے مدمقابل ہو گی۔

default

ویسٹ انڈیز نے ڈوائن براوو اور ایڈرین براتھ سمیت اپنے کئی سرکردہ کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کے باوجود گروپ بی میں چوتھی پوزیشن لیکر 1996ء کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ ناک آﺅٹ راﺅنڈ تک رسائی حاصل کی ہے۔

سابق پاکستانی کپتان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اگر سعید اجمل سمیت ویسٹ انڈیز کے خلاف تین اسپنرز کے ساتھ کھیلے تو تو کامیابی اسکا مقدر بنے گی۔عمران خان کے مطابق بنگلہ دیش میں پاکستانی ٹیم کو ہوم گراﺅنڈ اور ہوم کراﺅڈ جیسی سہولت ہوگی اس لیے پہلے بیٹنگ کرکے اگر اس نے220 رنز بھی بنا لیے تو وہ جیت کے لیے کافی ہوں گے۔

Imran Khan

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان

سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرنے میں ٹیم مینجمنٹ کے سخت فیصلوں کا بڑا ہاتھ ہے، جس نے عمر اکمل کو زمبابوے کے خلاف باہر بٹھایا۔ شعیب اختر پر جرمانہ عائد کیا اورعبدالرزاق کو بھی کارکردگی کے لیے وارننگ دی۔ رمیز کے بقول پاکستانی ٹیم درست وقت پر اکٹھی ہو رہی ہے اورآسٹریلیا کے خلاف کامیابی حاصل کرکےاس نے آسٹریلوی ہیبت کے تاثر کو بھی ختم کر دیا ہے۔

رمیز کا کہنا تھا کہ عمر اکمل نے اپنا غصہ آسٹریلوی بولنگ پر اتارا اس لیے اگر شعیب اختر کو بھی کھلایا جائے تو ان کا غصہ بھی پاکستان کے آئندہ میچوں میں کام آسکتا ہے۔ گروپ اے میں پاکستان کو پہلی پوزیشن دلانے میں مرکزی کردار20 سالہ عمراکمل کا رہا، جنہوں نے سنگین بحران میں شاندار اننگز کھیل کر آسٹریلیا کی ورلڈ کپ میں 34 میچوں میں ناقابل شکست رہنے کا اعزاز ختم کر دیا۔ غورطلب بات یہ ہے کہ عمر اکمل کو اپنے آﺅٹ آف فارم بھائی کامران اکمل کی جگہ بچانے کی خاطر مبینہ طور پر دانستہ طور پروکٹ کیپنگ سے گریز کے ڈارمے کا مرتکب قرار دیا جا رہا تھا۔

عمر اکمل کا کہنا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں اپنی اور اپنے بڑے بھائی کی کارکردگی سے کافی خوش ہیں ، جنہوں نے وکٹوں کے پیچھے تین کیچ اور ایک رن آﺅٹ کیا۔

رواں ورلڈ کپ میں پاکستان واحد ٹیم ہے، جس نے دو فیورٹ ٹیموں آسٹریلیا اور سری لنکا کو ہرانے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایونٹ میں پاکستانی بولنگ روایت کے مطابق ٹیم کی قوت رہی ہے تاہم اوپنرز کی ناکامی، کپتان اور کوچ کے لیے سب سے بڑا درد سر ہے۔

محمد حفیظ ، احمد شہزاد اور کامران اکمل کے ساتھ ملکر چھ میچوں میں ٹیم کو بمشکل 90 رنز کا مجموعی اوپننگ سٹینڈ فراہم کر پائے ہیں۔ اس لیے عمران خان بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کی دہائی دیتے ہیں۔ عمران کے مطابق یونس خان کو ون ڈاﺅن پر بھیجنا ناگزیرہے کیونکہ وہ وکٹ گرنے پر ٹیم کو سنبھال سکتا ہے۔ ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں سری لنکن کپتان سنگاکارا 363 رنز کے ساتھ سب سے کامیاب بیٹسمین اور پاکستانی کپتان شاہد آفریدی 17 وکٹوں کے ساتھ ٹورنامنٹ کے بہترین بولر ہیں۔

Cricket Sri Lanka vs Pakistan

اوپننگ پاکستان کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے

مگر چھ میچوں میں بنائے گئے صرف 65 رنز اور آسٹریلیا کے خلاف غیر ذمہ دارانہ شاٹ پر آفریدی اپنوں اور غیروں کی نکتہ چینی کی بھی زد آئے ہیں۔ اس بابت رمیز راجہ کا کہنا تھا شاہد آفریدی کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہو گا۔ آسٹریلیا کے خلاف ان کا شاٹ کسی کپتان کے شایان شان نہ تھا، جس پر آفریدی شرمندہ ہیں۔ پاکستان کی ورلڈ کپ میں جیت کا بڑا انحصار کپتان کی بولنگ کے ساتھ ان کی بیٹنگ اور رویے پر بھی ہو گا۔

پاکستان نے اگر کوارٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز اور اسکے اگلے روز بھارت نے احمد آباد میں آسٹریلیا کے دانت کھٹے کر دیے تو 30 مارچ کو موہالی میں ہونے والا ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل پاک بھارت معرکت لآراء بن جائے گا۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM