1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستانی کرکٹ ٹیم زمبابوے کے دورے پر

2002ء کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کا زمبابوے کا یہ پہلا دورہ ہے، جس میں رمیز راجہ جونیئر، یاسر شاہ اور اعزاز چیمہ جیسے نووارد کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ سابق کپتان شعیب ملک بھی توجہ کا مرکزہوں گے۔

یونس خان اور دیگر کھلاڑی

یونس خان اور دیگر کھلاڑی

مبینہ طور پر اپنی دیانت داری پر شکوک و شبہات کے چھائے بادل چھٹنے کے بعد شعیب ملک پی سی بی اینٹیگریٹی کمیٹی سے حال ہی میں کلیئرنس حاصل کر کے ایک سال بعد قومی ٹیم میں واپس آئے ہیں۔

انتیس سالہ شعیب ملک کو طویل عرصہ ٹیم سے باہر رکھے جانے کا ملال ضرور ہے مگر وہ زمبابوے کے خلاف سیریز کو اپنے کیریئر کا نیا سنگ میل قرار دیتے ہیں۔ ریڈیو ڈوئچے ویلے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شعیب ملک کا کہنا تھا کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، اس لئے اب وہ کٹھن وقت بھی ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور زمبابوے کے دورے میں وہ اپنا کیریئر از سر نو شروع کرنا چاہتے ہیں۔ شعیب کے بقول وہ خود کو ٹونٹی ٹونٹی اور ون ڈے کی طرح اب ٹیسٹ کرکٹ میں بھی منوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ ہی کو اصل کرکٹ سمجھتے ہیں مگر دیگر دو فارمیٹس کی طرح اس میں ان کی کارکردگی کا گراف بلند نہیں رہا، اس لئے ٹیم سے باہر رہ کر اس پر انہوں نے بے پناہ محنت کی ہے۔

سابق کپتان شعیب ملک

سابق کپتان شعیب ملک

شعیب ملک نے گز شتہ برس اگست میں انگلینڈ کےخلاف برمنگھم ٹیسٹ میں آخری بار پاکستان کی نمائندگی کی تھی ۔ طویل عرصے کے بعد انٹر نیشنل کرکٹ میں واپسی پر تیاریوں کےحوالے سے جب شعیب ملک سےاستفسار کیا گیا تو حالیہ ڈومیسٹک سیزن کےصرف چھ میچوں میں پی آئی اے کی جانب سے 799 رنز بنانےوالے سابق کپتان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈراپ ہونے کے باوجود ایک دن بھی فزیکل فٹنس اور ٹریننگ سے جی نہیں چرایا اور نہ ہی دلبرداشتہ ہوئے، اس لئے اب بھی فزیکلی مکمل فٹ ہیں اور انہیں اب محض ایک اچھی اننگز درکار ہوگی۔

پاکستان اور زمبابوے کےدرمیان ماضی میں کھیلے گئے پندرہ ٹیسٹ میچوں میں سےپاکستان نےآٹھ اور زمبابوے نےصرف دو میں کامیابی حاصل کی جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلے گئے اکتالیس ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی 37 فتوحات سمیٹ کر پاکستان کا پلڑا بھاری ہے۔ تاہم چھ برس بعد اب ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی واپسی پر زمبابوے نےحال ہی میں برینڈن ٹیلر کی قیادت میں بنگلہ دیش کو ٹیسٹ اور ون ڈےسیریز میں بری طرح سے ہرا کر پاکستانیوں کو بھی خبردار کر دیا ہے۔ دونوں ٹیموں کا موازنہ کرتے ہوئے شعیب ملک کہتے ہیں کہ ’بین الاقوامی کرکٹ میں کوئی ٹیم معمولی نہیں ہوتی۔ زمبابوے نے طویل عرصے کے بعد جس طرح بنگلہ دیش کو شکست دی، اس سے ثابت ہو گیا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا بھولے نہیں۔ ہم ان کے خلاف سہل پسندی کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ ہاں البتہ ٹیسٹ کرکٹ کے آزمودہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی میں پاکستان کو سیریز میں ایڈوانٹیج رہے گا‘۔

سابق پاکستانی کپتان راشد لطیف، جن کی قیادت میں پاکستان نے 1998ء میں زمبابوے کو اُسی کی سرزمین پر شکست دی تھی، کہتے ہیں کہ پاکستان نے عمر گل اور وہاب ریاض کو ڈراپ کر کے سنگین غلطی کی ہے مگر آف سپنر سعید اجمل دونوں ٹیموں میں فرق ثابت ہوں گے۔

پاکستانی باؤلنگ کے حوالے سے شعیب ملک کا کہنا تھا کہ ’ہماری باؤلنگ ناتجربہ کار ضرور ہے مگر وہ زمبابوے کو دو بار آؤٹ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ملک کے بقول اعزاز چیمہ تیز رفتار وکٹ لینے والے باؤلر ہیں جبکہ سہیل خان بھی باصلاحیت ہیں۔

پاکستانی بالر وہاب ریاض کو زمبابوے جانے والی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا

پاکستانی بالر وہاب ریاض کو زمبابوے جانے والی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا

زمبابوے جیسی ٹیم کےخلاف کھیلنے میں ایک مشکل یہ ہے کہ کامیابی پر اتنی پذیرائی نہیں ملتی، جتنی ہارنے پر ہرزہ سرائی ہوتی ہے ۔ تیرہ برس پہلے جب زمبابوے نے پاکستان کو آخری بار پشاور میں ٹیسٹ میں غیر متوقع شکست دی تو اس وقت کے کپتان عامر سہیل کو دوران سیریز ہی نہ صرف قیادت بلکہ ٹیم میں جگہ سے بھی ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ تو ایسے میں کیا پاکستانی ٹیم کے سینئر کھلاڑی اضافی دباؤ کا شکار ہوں گے؟ اس حوالے سے جب ٹیم کے سینئر بیٹسمین یونس خان سے پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا ’دباؤ تو سینئرز اور جونیئرز دونوں پر ہی ہوگا کیونکہ کرکٹ ٹیم ایک گیم ہے اور ہر کھلاڑی کو، اس سے قطع نظر کہ وہ 100 میچ کھیل رہا ہو یا پہلا ہی، اپنی ذمہ داری کا بخوبی احساس کرنا چاہیے۔ یونس خان کے مطابق زمبابوے کے خلاف پاکستانی ٹیم کو اپنا روایتی کرکٹ کھیل کر کامیابی مل سکتی ہے۔

1993ء میں زمبابوے کے ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھنے کے بعد سے اسے ہر بار اپنی سرزمین پر پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 1995ء کے اپنے پہلے دورہ زمبابوے میں پاکستان نے ہرارے میں پہلا ٹیسٹ اننگز کے مارجن سے ہار نے کے بعد بھی سیریز وقار یونس کی تباہ کن باؤلنگ کے ذریعے دو ایک کے فرق سے جیت لی تھی مگر اس بار کسی کے پاس واپسی کا راستہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ بلاوایو کا پہلا ٹیسٹ ہی سیریز میں دونوں ٹیموں کے ساتھ وقار یونس کی کوچنگ کا بھی آخری ٹیسٹ ہو گا۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس