1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستانی کرکٹرز کے خلاف سماعت، ICC ٹریبیونل قائم

کرکٹ کے نگران بین الاقوامی ادارے آئی سی سی نے تین پاکستانی کھلاڑیوں کے مبینہ طور پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے لئے ایک تین رکنی اینٹی کرپشن ٹریبیونل تشکیل دے دیا ہے۔

default

جمعے کے روز کئے گئے اس فیصلے کے تحت اب یہ ٹریبیونل اگلے برس جنوری میں سابق پاکستانی ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولرز محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرے گا۔ ان کھلاڑیوں پر پاکستانی ٹیم کے گزشتہ دورہء انگلینڈ کے دوران کھیلے جانے والے ایک ٹیسٹ میچ میں خطیر رقم کے عوض نو بال کرانے کے الزامات ہیں۔ ان الزامات کے بعد ان کھلاڑیوں کی طرف سے کسی بھی قسم کی کرکٹ سرگرمیوں میں شرکت پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

Pakistan Cricket Muhammad Asif

پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف

آئی سی سی کی طرف سے سامنے آنے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارہ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک خود مختار خصوصی عدالت قائم کر رہا ہے۔

’’آئی سی سی کا یہ خصوصی ٹریبیونل کونسل کے انسداد بدعنوانی ضوابط کے تحت تین پاکستانی کھلاڑیوں پر لگائے گئے الزامات کی سماعت کرے گا۔‘‘

اس ٹریبیونل کی سربراہی بیلوف کریں گے جبکہ ٹریبیونل میں جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے انسداد بدعنوانی کے کمشنر Albie Sachs اور کینیا سے تعلق رکھنے والے Sharad Rao شامل ہیں۔

Pakistan Cricket Manipulation

پاکستانی ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے دوران یہ الزامات سامنے آئے تھے

کرکٹ کے نگران اس عالمی ادارے کے مطابق اس معاملے کی باقاعدہ سماعت چھ جنوری سے گیارہ جنوری کے درمیان دوحہ میں ہو گی۔ اس مقدمے کی سماعت متحدہ عرب امارت کی بجائے قطر اس لئے منتقل کی گئی ہے کیونکہ محمد آصف کو منشیات رکھنے کے الزام میں دو برس قبل دبئی سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور اب ان کے دوبارہ دبئی جانے کی راہ میں متعدد قانونی پیچیدگیاں حائل ہیں۔

’’ان تینوں کھلاڑیوں کے خلاف مقدمہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ضابطہ انسداد بدعنوانی کے آرٹیکل دو کے تحت چلایا جا رہا ہے، جس کے بعد ان کھلاڑیوں پر عائد عارضی پابندی سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘

اس سے قبل سلمان بٹ اور محمد عامر نے ان الزامات پر فوری اور حتمی فیصلے کے حوالے سے آئی سی سی پر تاخیر سے کام لینے کا الزام عائد کیا تھا جبکہ انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس