1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی ڈومین کے ساتھ یو ٹیوب کھول دی گئی لیکن کس قیمت پر؟

آج 18 جنوری کو پاکستان ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی( پی ٹی اے) نے پاکستان میں انٹرنیٹ سروس پرووائڈرز کو یوٹیوب سے پابندی اٹھانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

پاکستان کی وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے آج 18 جنوری کو پی ٹی اے کو 48 گھنٹے میں یوٹیوب سروس بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ترجمان صغیر انور وٹو اور پی ٹی اے حکام نے اس حکم نامے کے جاری ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اسی حوالے سے پی ٹی اے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ، ’’یوٹیوب کے مقامی ایڈیشن میں تمام توہین آمیز مواد ہٹا دیا گیا ہے اورمستقبل میں بھی پی ٹی اے کے احکامات پر توہین آمیز مواد کو ہٹایا جا سکے گا۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان میں یوٹیوب ڈاٹ کام نہیں بلکہ پاکستانی ڈومین (پی کے) کے ساتھ یوٹیوب کو دیکھا جاسکے گا۔ چند دن پہلے پاکستان کی سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ گوگل نے یوٹیوب کا پاکستانی ایڈیشن لانچ کیا ہے جس میں پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز مواد ہٹا دیا گیا ہے۔

17 دسمبر 2012 کو پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی جانب سے یوٹیوب پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد کی موجودگی پر ملک بھر میں یوٹیوب پر پابندی عائد کر دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

سن 2013 میں یوٹیوب کے خلاف پابندی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تھا۔ پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے’ بولو بھی‘ کی ڈائریکٹر فریحہ عزیز نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے یوٹیوب کے حوالے سے 2012 کے فیصلے میں یوٹیوب پر پابندی عائد کرنے کا نہیں بلکہ اس ویب سائٹ سے توہین آمیز مواد نکالنے کا کہا تھا، تاہم حکومت نے یوٹیوب پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ فریحہ عزیزکے مطابق مئی سن 2014 میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منظور علی اور جسٹس عارف محمود نے ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ماہرین کی رائے کے بعد ایک حکم میں کہا تھا کہ یوٹیوب کو ایک وارننگ پیغام کے ساتھ کھول دینا ایک معقول قدم لگتا ہے لیکن حکومت نے بجائے یو ٹیوب پر پابندی اٹھانے کے یوٹیوب کے مقامی ایڈیشن کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔

پاکستان میں یوٹیوب کا مقامی ایڈیشن اب سب کو میسر ہو گا لیکن فریحہ عزیز کے مطابق پی ٹی اے پاکستان میں یوٹیوب پر کوئی بھی مواد ہٹانے کا فیصلہ کر سکتا ہے ۔ فریحہ عزیز اسے غیر جمہوری رویہ قرار دیتی ہیں۔ فریحہ عزیز کے مطابق، وہ یوٹیوب ڈاٹ کام پر پابندی ہٹانے کے حق میں ہیں لیکن پاکستانی ڈومین کے ساتھ یوٹیوب کو کھول دیے جانے کے فیصلے پر انہیں خدشات ہیں کیونکہ ان کی رائے میں اب پاکستانی ریاست جس پر چاہے پابندی عائد کر سکتی ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’پاکستان میں ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی عائد رہ چکی ہے۔ ہم نے ماضی میں دیکھا کہ ‌حکومت نے سوشل میڈیا پر ناپسندیدہ آوازوں کو دبایا ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا۔‘‘