1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پاکستانی ڈرائیور کی آسٹریلوی پارلیمان اڑا دينے کی دھمکی‘

آسٹریلیا میں مبينہ طور پر ایک پاکستانی ڈرائیور کے خلاف داعش سے منسلک ایک تنظیم چلانے اور پارلیمان پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزامات کے نتيجے ميں اوبر ٹیکسی سروس نے اُسے معطل کر ديا ہے۔

Uber car (picture-alliance/AP Photo/S. Wenig)

کینبرا میں اوبر ٹیکسی انتظامیہ کے مطابق متعلقہ ٹیکسی ڈرائیور سے اوبر ایپ واپس لے لی گئی ہے

اوبر ٹیکسی میں سفر کرنے والی ايک مسافر خاتون نے بتایا کہ وہ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد اتوار کی صبح دارالحکومت کینبرا کے اندرونی علاقے سے واپس گھر جانے کے لیے گاڑی میں سوار ہوئی تھیں۔ خاتون نے حفاظت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتايا کہ ڈرائیور نے خود کو پاکستان کا باشندہ بتایا۔ آسٹریلوی خاتون نے بتایا کہ ڈرائیور نے اُن سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے کبھی انسان کا گوشت کھایا ہے؟

خاتون کے مطابق ڈرائیور کا کہنا تھا کہ اُس نے کینبرا کے ایک بڑے شاپنگ مال اور پارلیمنٹ ہاؤس کو بم سے اڑانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور نے مبینہ طور پر خاتون مسافر کو یہ بھی کہا کہ وہ انہيں ان کے گھر نہیں بلکہ 100 کلو میٹر دور کُوما کے قصبے لے جا رہا ہے۔

خاتون کے بقول انہوں نے موقع ديکھ کر ٹیکسی ڈرائیور کو بیت الخلاء استعمال کرنے کے بہانے سے ايک اسٹیشن پر رکنے کو کہا اور وہاں سے پولیس ایمرجنسی نمبر پر فون کیا۔ پولیس کی دو گاڑیاں دس منٹ میں متعلقہ مقام پر پہنچ گئيں۔ پولیس اہلکاروں نے ٹیکسی کی اچھی طرح تلاشی لی تاہم کوئی مشکوک چیز برآمد نہیں ہوئی۔ بعد ازاں پولیس نے خاتون کو گھر روانہ کر ديا اور ٹیکسی ڈرائیور کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

آسٹریلوی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ملکی خفيہ ایجنسیاں اور پولیس مبینہ طور پر پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور پر مسافر خاتون کی جانب سے عائد الزامات کی چھان بین کر رہی ہیں۔ کینبرا میں اوبر ٹیکسی انتظامیہ کے مطابق متعلقہ ٹیکسی ڈرائیور سے اوبر ایپ واپس لے لی گئی ہے۔

دريں اثناء مسافر خاتون نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ یہ ایک بہت خوفناک تجربہ تھا۔ جس گیس اسٹیشن پر اس سفر کا اختتام ہوا، وہ کُوما جانے والی ہائی وے پر واقع ہے تاہم اُس سے پہلے خاتون کے گھر کی جانب مڑنے والی سڑک بھی آتی ہے۔

DW.COM