1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی پولیس میں جنسی عدم توازن: عام خواتین متاثر

پاکستان میں محکمہء پولیس کے ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ پولیس فورس میں مردوں کی اکثریت کے باعث خواتین پر تشدد کے زیادہ تر واقعات قانونی طور پر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی اہم وجوہات میں خواتین اہلکاروں کی کمی ہے۔

default

جرائم سے متاثرہ خواتین مرد اہلکاروں کو اپنے مسائل بتاتے ہوئے ہچکچاتی ہیں

محکمہء پولیس میں خواتین کے مسائل سے آگاہی اور رویوں کو جانچنے کے لئے اسلام آباد میں نیشنل پولیس بیورو اور جرمنی کے تعاون سے ایک سروے کیا گیا۔ اس سروے کے نتائج کے مطابق خواتین کے ساتھ پیش آنے والے مجرمانہ نوعیت کے واقعات رپورٹ نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ پولیس فورس میں خواتین اہلکاروں کی کمی اور کافی زیادہ حد تک پڑھی لکھی خواتین کی عدم موجودگی ہے۔

اس سروے کے نتائج پر مثبت عمل درآمد کے حوالے سے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس سید کلیم امام نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ابتدائی طور پر جرمنی کے تعاون سے پہلے اسلام آباد کے تھانوں میں خواتین کے شکایتی مراکز قائم کئے جارہے ہیں۔ بعد میں یہ سلسلہ دوسرے شہروں تک بھی پھیلا دیا جائے گا۔ تاہم اس مسئلے کا حقیقی تدارک پولیس میں زیادہ تعداد میں خواتین اہلکاروں کی بھرتی سے ہی کیا جاسکتا ہے۔

Pakistan Trauer Terrorattacke

پاکستان میں جرائم کی شکار خواتین اپنی ہم جنس پولیس اہلکاروں کو اپنے مسائل آسانی سے بتا سکتی ہیں

تکنیکی تعاون کے جرمن ادارے GTZ سے وابستہ ڈاکٹر خولہ ارم کا کہنا ہے کہ پڑھی لکھی خواتین کو پولیس فورس میں بھرتی کر کے موجودہ صورت حال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہء پولیس میں مردوں اور خواتین اہلکاروں کے مابین ان کی تعداد کے لحاظ سے جنسی عدم توازن کے باعث متاثرہ خواتین اکثر مرد اہلکاروں کو اپنے مسائل بتانے سے گریز کرتی ہیں۔

خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک اہم غیر سرکاری تنظیم، عورت فاﺅنڈیشن کی رکن مینا خان کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا سمیت ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں میں مکمل کئے گئے جائزے بھی یہی ثابت کرتے ہیں کہ تھانوں میں خواتین اہلکاروں کی عدم موجودگی بہت سی خواتین کے لئے ان گنت مسائل کو جنم دیتی ہے۔

ماہرین کاکہنا ہے کہ پولیس فورس میں جنسی عدم توازن سے معاشرے کا کافی بڑا حصہ اس قانونی تحفظ سے محروم رہ جاتا ہے، جو پولیس جیسے ادارے کے وجود کا بنیادی مقصد ہے۔ ان ماہرین کے بقول ان حالات میں بہتری کے لئے قومی سطح پر ایک جامع حکمت عملی انتہائی ضروری ہے۔

لیکن فوری طور پر یہ بہرحال کیا جانا چاہئے کہ وفاقی دارالحکومت کی طرح ملک کے دیگر تمام شہروں کے تھانوں میں بھی خواتین کے لئے شکایتی مراکز قائم کئے جائیں، تاکہ متاثرہ خواتین بلا جھجھک پولیس کی مدد حاصل کرسکیں۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس