1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی پائلٹس کی ہڑتال، مسافر خوار

پاکستان کی قومی ائیرلائن میں کام کرنے والے ہوا بازوں کی جزوی ہڑتال کی وجہ سے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی ساٹھ پروازیں منسوخ جبکہ اس سے کہیں زیادہ تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں۔

اس صورتحال میں نجی ہوائی کمپنیوں نے اپنے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ اس وجہ سے ملک کی قومی ائیر لائن کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہفتے کی شام تک صرف لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر منسوخ اور تاخیر کا شکار ہونے والی پروازوں کی تعداد بتیس تک پہنچ چکی تھی۔ اس ائیر پورٹ پر مسافروں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

مقامی ٹریول ایجنسی سے وابستہ ٹریول ایجنٹ محمد اشرف نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس صورتحال نے نہ صرف حکومت کو کروڑوں روپے کے مالی نقصانات سے دوچار کر دیا ہے بلکہ سینکڑوں مسافر بھی راستوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں، ’’ ایک نیا شادی شدہ جوڑا کراچی سے ہنی مون منانے کے لیے مری کے علاقے میں آیا ہوا تھا۔ اسے اسلام آباد سے کراچی جانا تھا، اس کی فلائٹ منسوخ ہو گئی، ایک نجی ائیر لائن جس کا اسلام آباد سے کراچی کا یکطرفہ کرایہ عام طور پر آٹھ نو ہزار روپے فی کس کے قریب ہوتا ہے اس پر ہم نے بکنگ کرانا چاہی تو ہمیں چوبیس ہزار روپے فی کس کے حساب سے کرایہ بتایا گیا۔ اس پر شادی شدہ جوڑے کو ڈایئوو بس سروس کے ذریعے کراچی روانہ ہونا پڑا۔‘‘

کئی کاروباری لوگوں نے کراچی میں ہونے والی اپنی میٹنگز میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے بیک وقت پی آئی اے اور نجی ائیر لائنوں کے ٹکٹ خرید رکھے ہیں اور انہیں بعد ازاں ٹکٹ کی منسوخی کی مد میں ہزاروں روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ ارشد نامی ایک نوجوان نے لاہور ائیر پورٹ پرڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میں مڈل ایسٹ میں ملازمت کرتا ہوں، میں نے بہت عرصہ پہلے پی آئی اے سے بکنگ کروا رکھی تھی لیکن میری چھٹیاں ختم ہو گئی ہیں، میں وقت پر نہیں جا سکا پتا نہیں اب میری ملازمت کے حالات کیا ہوں گے۔’’

پی آئی اے کی انتظامیہ اور پائلٹوں میں شدید الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان ائیرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کیپٹن خالد خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ حکومت حالات خراب کر کے پی آئی اے کی نجکاری چاہتی ہے، ’’حکومت نہ تو ورکنگ معاہدوں کی تجدید کر رہی ہے اور نہ ہی قومی مفاد میں نیشنل ایوی ایشن پالیسی کی تشکیل کر رہی ہے‘‘۔ دوسری طرف پی آئی اے کے چئیرمین ناصر جعفر کہتے ہیں کہ پائلٹوں کا ایک ہی وقت میں بیمار ہو جانا اور مسافروں کے تحفظ کا بہانہ کرکے ڈیوٹی سے گریز کرنا دراصل ایک سازش ہے۔ ان کے بقول یہ پائلٹ اپنی تنخواہوں میں 100 فی صد اضافہ چاہتے ہیں۔

ممتاز تجزیہ نگار منصور احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اصل میں حکومت اور پائلٹس دونوں قصور وار ہیں۔ ان کے بقول اصل معاملہ کچھ اور ہی ہے، ’’ پی آئی اے نے بڑے جہازوں کی تربیت کے لیے سینئر پائلٹوں کو نظر انداز کر کے جونئر پائلٹوں کو منتخب کیا، ریٹائر آدمی کو ڈائریکٹر آپریشن لگا دیا، کئی فیصلے میرٹ سے ہٹ کر کیے اور دوسری طرف پائلٹ جب مطمئن ہوتے ہیں تو وہ قواعد و ضوابط سے ہٹ کر زیادہ وقت کی ڈیوٹی بھی کر دیتے ہیں، معمولی خرابی کے باوجود جہاز لے جاتے ہیں، لیکن جب حکومت کو کڑا وقت دینا چاہتے ہیں تو پھر وہ قواعد کی آڑ میں فلائٹ آپریشن میں رخنہ ڈالنا شروع کر دیتے ہیں‘‘۔

Wartehalle am Flughafen Benazir Bhutto in Islamabad

ملک کی قومی ائیر لائن کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

منصور احمد کے مطابق حکومتی کمزوریاں پائلٹس کو موقعہ دیتی ہیں کہ وہ بلیک میلنگ کر سکیں اس سارے چکر میں عوام خوار ہو رہے ہیں اور ان کے دکھ کو کوئی بھی محسوس نہیں کر رہا ہے۔

اس وقت تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ہڑتالی پائلٹس نے وزیر اعظم کے مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے اور خالد خان کے بقول پالپا کا ایک وفد اتوار کی صبح وزیر اعظم کے ہوا بازی کے مشیر شجاعت عظیم کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے لیے کراچی سے اسلام آباد جائے گا۔ پائلٹس ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے ٹھوس ضمانت چاہتے ہیں، اس لیے ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ان مذاکرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔