1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی ٹی وی ایمان دار سرکاری ملازمین کی تلاش میں

بدعنوانی کے اعتبار سے پاکستان دنیا بھر میں اس مسئلے سے بری طرح متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اب ایک ریئلیٹی ٹی وی شو میں ایسے سرکاری ملازمین کو تلاش کیا جا رہا ہے، جو دیانت دار ہیں۔

پاکستانی صوبے پنجاب میں ایک صوبائی اہلکار، جس نے اپنے ضلع میں اراضی کی رجسٹریشن کے معاملے میں کرپشن کے خلاف کارروائیاں کیں، بدھ کے روز اس ریئلیٹی شو کے فائنل میں سب سے آگے رہا۔

عوام کی جانب سے ایسے تین سو دیانت دار سرکاری ملازمین کے نام دیے گئے تھے، تاہم بعد میں اس شو میں شامل قانونی ماہرین نے کارکردگی اور دیگر عوامل کی بنیاد پر صرف پانچ ملازمین کا انتخاب کیا۔

اس پروگرام کے فاتح رائے منظور حسین ناصر نے کہا، ’’میں نے اپنے علاقے میں ہر باشندے پر واضح کیا کہ اگر زمین کی ملکیت کی رجسٹریشن کے دوران کوئی بھی سرکاری ملازم رشوت طلب کرے اور وہ رشوت چاہے ایک روپے کی بھی ہو، تو مجھے مطلع کیا جائے۔‘‘

ناصر کو، جس نے تیس کرپٹ سرکاری ملازمین کو برطرف کیا اور جسے آن لائن رائے شماری میں ڈالے گئے 20 ہزار ووٹوں میں سے سات ہزار ووٹ ملے، اس پروگرام کی جانب سے ’مثالی شخصیت‘ کا لقب دیا گیا۔ اس پروگرام کی انعامی تقریب میں اہم سیاست دانوں نے بھی شرکت کی۔

Pakistan Gebäude Oberster Gerichtshof in Islamabad (Reuters)

پاکستان بدعنوانی کے اعتبار سے دنیا میں سرفہرست ممالک میں سے ایک ہے

پروٹوکول اور دیگر سرکاری مراعات استعمال نہ کرنے پر بھی اس سرکاری اہلکار کی تعریف و توصیف کی گئی۔

ناصر اور اس پروگرام کے فائنل کے چار دیگر سرکاری اہلکاروں کی پس پردہ کہانی بھی ایک مختصر دستاویزی فلم میں نشر کی گئی۔ پاکستان کے معروف نجی ٹی وی چینل جیو نیٹ ورک کے زیرانتظام اس مقابلے کا اہتمام کیا گیا۔

اس پروگرام کے فائنل میں پہنچنے والے دیگر چار سرکاری ملازمین میں سے ایک فدا حسین ہیں، جو ملک کے شمال مغربی شہر مردان میں ایک سرکاری اسکول کی ایک لیبارٹری میں معاون کی نوکری کرتے ہیں اور وہ وہاں بچوں کی مدد کرتے ہیں۔ فائنل میں شامل ایک اور سرکاری ملازم ملک کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں کرپشن کے خلاف کام کرنے والے سرکاری ملازم فرخ عتیق تھے۔

جیو ٹی وی سے اس پروگرام کے لیے معاونت امریکا کی ایک غیر منافع بخش اور غیر سرکاری تنظیم ’اکاؤنٹیبیلیٹی لیب‘ یا ’احتساب لیب‘ نے کی۔ اس تنظیم کے مطابق پاکستان میں اس پروگرام کی کامیابی کے بعد وہ اب ایسا ہی ایک پروگرام نیپال میں بھی شروع کرنا چاہتی ہے۔