1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی وزیر داخلہ کی گفتگو کا مکمل متن

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے اسلام آباد میں ڈوئچے ویلے کے نمائندے امتیاز گُل کے ساتھ خصوصی گفتگو کی جس کا مکمل متن یہاں پیش کیا جارہا ہے۔

default

پاکستانی وزیر داخلہ رحمٰن ملک

پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ کی فوجی قیادت، عوامی قیادت، سینئر سیاسی قیادت ماسوائے وہ جو نئے مولانا بنے ہیں، میں نام نہیں لینا چاہتا ۔کیونکہ قومیں اسی وقت جنگیں جیت سکتی ہیں جس وقت قومیں یکجا ہوتی ہیں۔ میں اتنا عرض کروں کہ وہ لوگ جو عوام کے سامنے یہ بات کرتے ہیں کہ ہم اس دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مخالفت کرتے ہیں، یہ بند ہونی چاہئےو لیکن جاتے ہوئے کان میں یہ کہہ جاتے ہیں:

'' ملک صاحب سب ٹھیک ہے اسی طرح ہونا چاہئے۔‘‘

اس وقت پاک فوج جس بہادی، جس پیشہ وارانہ مہارت سے لڑ رہی ہے ناصرف قابل ستائش ہے بلکہ آنے والے وقت میں بھی ہمارے لئے اچھا ہے۔ ہماری فوج جیتی ہے ہماری فوج نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ہمارے پاس جو سپاہی لڑ رہے ہیں وہ بلٹ پروف جیکٹ کے بغیر لڑ رہے ہیں۔ اس کے دل میں اپنے ملک اور قوم کا درد ہے وہ قوم کا سپاہی ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت بڑی سازش تھی پاکستان کے خلاف اور تحریک طالبان پاکستان جیسا کہ آپ جانتے ہیں جس کی سربراہی بیت اللہ محسود، طالبان اور ساتھ ہی کچھ بیرونی قوتوں کی آلہ کار تنظیمیں ہیں ۔ان تینوں کا ایک ٹرائیکا بن گیا ہے اور اس ٹرائیکا میں لوگ اتنے تجربہ کار ہو چکے ہیں کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جو سوویت یونین اور افغانستان کی جنگ میں اس وقت کی خفیہ ایجنسیوں سے تربیت یافتہ تھے۔ آج وہ ماہر ٹرینر بنے ہوئے ہیں۔ امتیاز صاحب! آپ دیکھیں کہ القاعدہ اس سے پہلے خود سامنے آتا تھا۔ آج تحریک طالبان پاکستان اس کا ہراول دستہ ہے، القاعدہ نے لشکر جھنگوی، جیش محمد کو تقویت دی، ان کے عزائم بہت خطرناک تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کا القاعدہ بڑا دشمن ہے اور اس سے زیادہ دشمن پاکستان میں وہ غدار ہیں جو چند ٹکوں کے عوض بک گئے اور ان کے ساتھ مل گئے ۔اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جو کچھ ہو رہا اس میں پاکستان کے کچھ ایسے بھی دشمن ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

میں سو فیصد یقین سے کہتا ہوں کہ ان انتہاء پسندوں میں ازبک بھی ہیں، نورستانی بھی ہیں ، سعودی بھی ہیں، یمنی بھی ہیں اور لیبیائی بھی ہیں ۔ میرے اعداد و شمار کے مطابق 350 نورستانی ہیں، دو سو سے زائد ازبک ہیں۔ اس کے علاوہ حال میں ہم نے چار سعودی اور ایک لیبیائی پکڑا تھا اور ان کے علاوہ دو کا تعلق مالدیپ سے تھا۔ بنیادی طور پر یہ نمونہ سمجھ لیں، جو آتے رہے اس کے علاوہ کچھ چینی بھی رپورٹ ہوئے ہیں جو شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی ہیں ۔

عسکریت پسند ابھی کوشش بھی کریں گے کہ پاکستان اور انڈیا کے حالات مزید کشیدہ ہوں۔ اس کا فائدہ کس کو ہوگا؟ القاعدہ کو … کیونکہ دشمن کو کمزور کرنا ہے ۔یہی بات میں ذرائع ابلاغ اور دوسرے ذرائع سے بھارت تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ دیکھیں آپ کے ہاں مسلم آبادی تقریبا ہم سے زیادہ ہے۔ اگر وہ یہاں تقویت پکڑ سکتے ہیں تو وہاں بھی زور پکڑ سکتے ہیں اور یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ انڈین اتھارٹی نے اس کی تصدیق کی ہے کہ کچھ طالبان وہاں پر بھی زور پکڑ رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں انہوں نے زور پکڑنا شروع کر دیا ہے تو بھارت میں بھی ہو گا۔ ان کا بنیادی مقصد خطے میں آنے کا ہے، اسی لئے ہم اس وقت پاکستان افغانستان کی بات نہیں کر رہے ۔ میں تو پورے خطے کی بات کر رہا ہوں۔ میں نے واشنگٹن اور دوسری جگہوں پر بالکل صاف الفاظ میں کہا ہے کہ دہشتگردی کا جو دروازہ پاکستان اور افغانستان سے کھل چکا ہے وہ پاکستان اور افغانستان مل کر کسی صورت بند نہیں کر سکتے۔ یہی وہ وقت ہے جب بین الاقوامی برادری کو آگے آنا چاہئے ۔

جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات اچھے نہیں ہو سکتے ۔میں بین الاقوامی برادری سے ایک سوال کرتا ہوں کہ آپ قرارداد کی بات کرتے ہیں کہ آپ عملدرآمد کریں، عراق میں اس قسم کی قرارداد آتی ہے، اس پر توآپ ایک منٹ میں عملدرآمد کر لیتے ہیں، تو کشمیریوں کے لئے حق خود ارادیت کی قرارداد پاس ہوئی تھی اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کشمیر کا مسئلہ تو انتہاء پسندی سے پیدا نہیں ہوا یہ تو 62 سال پرانا واقعہ ہے ۔ بنیادی طور پر جب آپ انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، حق خود ارادیت کی بات کرتے ہیں تو کشمیریوں کو بھی اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا فلسطینیوں کو ہے اور کشمیر بھی بالکل ایسے ہی آزادی مانگ رہے ہیں جیسے دوسرے ملک میں کسی نے آزادی مانگی ہو۔

ہم نے یہ نشاندہی کرنی ہے کہ باہمی اعتماد کو بحال کرنے کی راہ میں کون کون سی خامیاں ہیں جن کو دور کیا جائے ۔ اگر ہم بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تو بھارت کو بھی اس کا مثبت جواب دینا چاہئے۔ بھارت بھی یہ تسلیم کرتاہے کہ مسئلہ کشمیر ایک تنازعہ ہے، تو اس تنازعہ کو ہمیں حل کرنا چاہئے ۔ اب ممبئی حملوں کی بات ہوئی ہماری مشترکہ بات چیت کا سلسلہ بند ہوا ۔لیکن جس طرح انہوں نے ہم پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی، فوجیں سرحدوں پر آ گئیں، جہازوں نے سرحدی خلاف ورزیاں شروع کر دیں۔ جس طرح میں نے یہ تفتیش آگے بڑھائی ہے اور اس کو سنبھالا، اس کا سب کو پتا ہے۔ ہم نے بالکل شفاف طریقے سے اس کی تحقیقات کر کے دنیا کو یہ بتایا کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان دنیا میں کسی بھی جگہ غلط عزائم کی تکمیل کےلئے استعمال ہو۔

پاکستان اور افغانستان کو یہ سوچنا چاہئے کہ ہم ایک مشترکہ دشمن کے خلاف محاذ آراء ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری حکمت عملی مشترکہ نہیں ہیں اس کا فائدہ افغانی طالبان اور پاکستانی طالبان کو جا رہا ہے، اگر دو ریاستیں مل جائیں اور ایک مشترکہ لائحہ عمل بنا لیں ہم نے یہ کرنا ہے ۔ بنیادی طورپر ہماری دو چیزیں ہیں، بارڈر کنٹرول منیجمنٹ۔ ہماری اس وقت ایک ہزار سے اوپر چیک پوسٹیں ہیں اور افغانستان کی اس سے کہیں کم۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ڈیورنڈ لائن کو مستقل طور پر بارڈر بنایا جائے اور مل کر اس پر کام کیا جائے ۔ہمارا مطالبہ بھی یہی ہے دیکھیں روز پچاس ہزار قبائلی بغیر کسی روک ٹوک ادھر سے ادھر جاتے ہیں کوئی روکتا نہیں ہے ، یہ سب ٹھیک نہیں ہے ۔

ممبئی حملے

یہ آپ کے لئے خبر ہے کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں کے اندر حتمی چالان عدالت میں چلا جائے گا ۔ ظاہر ہے پاکستان میں عدالتیں خود مختار ہیں۔ وہ اظہار رائے کا حق رکھتے ہیں لیکن ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ ہم اپنی نمائندگی کریں۔ اس لئے ہم پراسیکیوشن کے لئے لے جا رہے ہیں اس کے بعد کورٹ ٹرائل ہو گا ۔یقینا جتنی شہادتیں ہمارے پاس موجود ہیں ہم نے سامنے رکھی ہیں ۔ اب دیکھیں دو چیزیں ہیں بھارت کو ہم نے کہا ہے کہ اجمل قصاب کی اسٹیٹمنٹ دیں۔ یہ اسٹیٹمنٹ تین ماہ بعد مراٹھی میں آتی ہے ۔اب میرے پاس مراٹھی کا کوئی تحقیق کرنے والا نہیں ہے۔ میں نے تو اس کو واپس بھیج دیا۔

اندرون ملک سیکیورٹی

ہم فکس اسکینرز لے کر آ رہے ہیں۔ اس سے اگر کوئی گاڑی جا رہی ہے اس میں منشیات، بارود یا بندہ چھپا ہوا اس کی نشاندہی ہو سکے گی۔ ہم ان اسکینرز کو بڑی بڑی شاہراہوں پر لگا رہے ہیں۔ ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ بڑے شہروں میں چیک پوسٹوں کے درمیان فاصلے کوکم کیا جائے تا کہ بڑی مقدار میں بارود کی ترسیل کو کنٹرول کر سکیں۔ اس میں ایک اور اچھی چیزموبائل اسکینرز ہیں اس کی تعداد میں بتائوں گا نہیں لیکن بہت زیادہ منگوائے ہیں۔ اس اسکینر کو آپ کسی گاڑی کے پاس سے گزاریں گے تو اس گاڑی میں منشیات یا بارود کی نشاندہی ہو جائے گی۔ وہ بہت زیادہ مفید ہے ان کو ہم ان شہروں میں استعمال کریں گے جہاں پر لوگوں نے گھروں میں بارود اور منشیات وغیرہ ذخیرہ کر رکھی ہے۔ یہ اسکینر 500 گز تک منشیات، بارود یا کسی بھی قسم کے اسلحے کی نشاندہی کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے ان میں بلٹ پروف جیکٹیں بھی شامل ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات