1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی وزیر اعظم کے گھر کے باہر سیلاب سے متاثرہ شخص کی خودسوزی

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے آبائی شہر ملتان میں ان کے گھر کے باہر سیلاب سے متاثرہ ایک شخص نے خود کو آگ لگا کر ہلاک کر لیا ہے۔ غربت سے تنگ آکر خودسوزی کرنے والا محمد اکرم پانچ بچوں کا باپ تھا۔

default

محمد اکرم نے جب خود کو آگ لگائی، تو وہاں متعدد لوگ موجود تھے۔ وہ حالیہ سیلاب کے باعث بے گھر ہو چکا تھا۔ آگ لگنے کے نتیجے میں اس کا جسم نوے فیصد جُھلس گیا۔ اسے ہسپتال میں انتہائی نازک حالت میں پہنچایا گیا، تاہم اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔

پولیس نے اس واقع کی تصدیق کر دی ہے۔

خیال رہے کہ ماہرینِ طب کے مطابق انسانی جسم ساٹھ فیصد سے زائد جھلس جائے تو متاثرہ شخص کے بچنے کا امکان انتہائی کم ہو جاتا ہے۔

خود سوزی کرنے والے محمد اکرم کا تعلق ملتان سے ساٹھ کلو میٹر کی دوری پر جنوب مغرب میں واقع جام پور کے قصبے سے ہے، جو سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ محمد اکرم سیلاب سے پہلے ہی بیروزگار تھا اور وہ روزگار کی تلاش میں مارا مارا پھرتا تھا۔ تاہم وہ کوئی مناسب ذریعہ معاش تلاش

Pakistan neues Parlament bei seiner ersten Tagung in Islamabad, der neu gewählte Gesetzgeber Yousuf Raza Gillani

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی: فائل فوٹو

کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے بھائی محمد آصف نے اس کی معاشی پریشانی کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو بتائیں۔ خود سوزی کرنے والے اکرم کے بھائی کے مطابق اس کا کچاگھر سیلابی پانی کے ریلے میں بہہ گیا تھا۔آصف کے مطابق اس کے مرحوم بھائی نے نوکری کے لئے وزیر اعظم کے دفترکو خط کے ذریعے اپیل بھی روانہ کی تھی، لیکن اسے کوئی جواب نہ ملا۔

وزیر اعظم نے محمد اکرم کے والد کو واقع کے بعد تعزیت کا فون کیا اور پانچ لاکھ روپے کی امداد کا یقین دلایا۔ وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کئے گئے بیان میں اس افسوسناک واقعے پر شدید رنج کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان میں حالیہ سیلاب کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ سماجی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کے مزید واقعات آئندہ دِنوں میں رُونما ہو سکتے ہیں، کیونکہ امداد ابھی تک نچلی سطح تک نہیں پہنچ پا رہی اور متاثرین کا غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ امدادکی تقسیم کا عمل بھی سست بتایا جاتا ہے اور اس پر غیر سرکاری تنظیموں سمیت سیاسی جماعتیں بھی تحفظات رکھتی ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس