1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی وزیر اعظم دو روزہ دورے پر تاجکستان پہنچ گئے

پاکستان وزیر اعظم نواز شریف آج دو روزہ دورے پر تاجکستان پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ’سی اے ایس اے‘ نامی ایک ہزار میگا واٹ پاور پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے۔

اس پروجیکٹ کے تحت تاجکستان اور کرغستان تیرہ سو میگا واٹ بجلی فروخت کر یں گے اور اس میں سے پاکستان کو ایک سال میں پانچ مہینوں کے لئے ایک ہزار میگا واٹ بجلی فراہم کی جائے گی جبکہ گرمیوں کے مہینوں میں افغانستان کو تین سو میگاواٹ بجلی دی جائے گی۔ تقریب میں خطے کے دوسرے ملکوں کے سرکاری عہدیدار بھی شرکت کر رہے ہیں۔ یہ پروجیکٹ سن دو ہزار اٹھارہ تک مکمل کیا جائے گا۔

مئی 2013ء کے عام انتخابات میں جب پیپلز پارٹی کو شکست ہوئی تو ناکامی کی وجوہات میں ایک اہم وجہ ملک میں توانائی کا بحران بھی تھا۔ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے بلندوبانگ دعوے کئے تھے، تاہم ابھی تک یہ بحران جاری ہے۔ اب حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ 2018ء تک اس بحران پر قابو پا لے گی۔ بجلی کے بحران کی وجہ سے پاکستان کو معاشی طور پر بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق فیصل آباد اور ملک کے دوسرے صنعتی شہروں میں لاکھوں مزدور یا تو بے روزگا ر ہو چکے ہیں یا پھراُن کی آمدنی میں بہت حد تک کمی ہوگئی ہے۔ توانائی کے بحران کی وجہ سے کئی صنعت کاروں نے اپنے پیداواری یونٹس بنگلا دیش اور دوسرے ممالک میں شفٹ کر دیئے ہیں۔


حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے تمام طرح کی کوششیں بروئے کار لائی جا رہی ہیں۔ ترجمان وزیرِ اعظم ہاوس مصدق ملک نے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’پاکستان میں اس وقت بجلی کی چار سے پانچ ہزار میگاواٹ کی کمی ہے۔ تاجکستان سے درآمد کی جانے والی بجلی توانائی کے بحران کو کم کرنے میں معاون ہوگی۔ اس سے خطے کے ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئی گی اور جب پاکستان کے پاس ضرورت سے زیادہ بجلی ہوگی تو اُسے برآمد بھی کیا جائے گا۔کیونکہ یہ بجلی افغانستان کے راستے پاکستان آئے گی، اس لئے وہاں کی صورتِ حال بہتر کرنے کے لئے دونوں ممالک کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں امن و امان کی صورتِ حال بہت بہتر ہوگئی اور افغانستان میں بھی انشاء اللہ بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا اس کے علاوہ بھی حکومت دوسرے منصوبوں پر کام کر رہی ہے،’’ملک میں تین ہزار چھ سو میگاواٹ بجلی ایل این جی کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔ اس کے علاوہ چودہ سو میگاواٹ تربیلا فور کے توسیعی پروگرام سے، دو ہزار چھ سو میگاواٹ کوئلے کے پروجیکٹس سے جبکہ دو ہزار میگاواٹ بجلی نیلم جہلم سے حاصل کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سولر اور ونڈ سے بھی بجلی پیدا کرنے کے کئی پروجیکٹس پر کام کیا جا رہا ہے۔ حکومت پرامید ہے کہ دو ہزار اٹھارہ تک وہ بجلی کے بحران پر قابو پا لے گی۔‘‘
انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ حکومت بجلی مہنگی پیدا کر رہی ہے لیکن حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے سنیٹر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ حکومت درآمدی بجلی پر انحصار کر کے توانائی کے سستے ذرائع کو نظر انداز کر رہی ہے،’’حکومت سولر انرجی، ونڈ انرجی اور کول انرجی کی طرف کیوں نہیں جاتی، جو بجلی یہ کوئلے سے پیدا کر رہے ہیں وہ بھی درآمد شدہ کوئلے سے بنائے جائے گی، جو یقیناً مہنگی پڑے گی۔ ایران، تاجکستان اور دوسرے ممالک ہمیں بجلی کی پیش کش کر سکتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں سولر، ونڈ اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی کافی گنجائش ہے، ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ملک میں ایک لابی ایسی ہے، جو درآمد ت کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ مثال کے طور پر ملک کا سب سے بڑا ادارہ اسٹیل مل بند ہے اور اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے حال ہی میں 2.6 بلین ڈالرز کا اسٹیل درآمد کیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں درآمد لابی کتنی طاقتور ہے، میں بجلی درآمد کرنے کا شدید مخالف ہوں۔‘‘