1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ امریکہ

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سوموار تئیس فروری سے امریکہ کا چار روزہ سرکاری دورہ شروع کر رہے ہیں۔

default

پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سوموار تئیس فروری سے امریکہ کا جو چار روزہ سرکاری دورہ شروع کر رہے ہیں اس میں وہ اوبامہ انتظامیہ کی پاکستان اور افغانستان کے لئے پالیسی پر نظر ثانی اور اس خطے میں مسائل کے حل کے لئے نئی حکمت عملی اپنانے ایسے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیزکے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنی امریکی ہم منصب ہیلری کلنٹن خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک کے علاوہ پالیسی ریویو پینل کے کو چیئرمین بروس ریڈل اور قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونزسے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

Pakistanischer Armeechef Ashfaq Kayani

افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دورہ امریکہ میں دہشتگردی کے خلاف جنگ پر امریکی حکمت عملی میں تبدیلی پر بات چیت کے علاوہ سوات میں طالبان سے معاہدے پر امریکی حکام کے خدشات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ ادھر دفاعی تجزیہ نگار اور سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر باراک اوبامہ پہلے ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں کو میدان جنگ بنانے کا عندیہ دے چکے ہیں اور بقول ان کے اب پاکستانی وزیر خارجہ اس ضمن میں براہ راست احکامات سننے واشنگٹن جا رہے ہیں۔

”اب امریکہ کی فوج پاکستانی افواج کے ساتھ مل کر فاٹا کے علاقے میں لشکر کشی کر ے گی اور اس علاقے کو دہشتگردی سے صاف کریں گے ۔میں یہ کہوں گا کہ یہ ایک اور بڑا فتنہ کھڑا کیا جا رہا ہے کہ جس سے پاکستان کی سلامتی کو اس سے بڑا خطرہ پیش آئے گاجسکا ہم مشرف کی غلطی کی وجہ سے سامنا کر رہے ہیں۔“

Bildgalerie USA Wahlen Obama Iran 1

اب امریکہ کی فوج پاکستانی افواج کے ساتھ مل کر فاٹا کے علاقے میں لشکر کشی کر ے گی، سابق سربراہ افواجِ پاکستان اسلم بیگ کی رائے

تاہم بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی پہلے سے طے شدہ دورے پر واشنگٹن میں موجودگی دہشتگردی کے خلاف جنگ اور سلامتی کے دیگر امور پر پاکستان کا نقطہ نظر موثر طریقے سے پیش کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔ اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کہتے ہیں: ”جنرل کیانی صاحب حال ہی میںجب نیٹو کانفرنس گئے تھے اس میں انہوں نے پاکستان کا نقطہ نظر بڑی اچھی طرح سے پیش کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس دورے میں بھی اس چیز کو دہرائیں گے اور پاکستان کے مفادات کے بارے میں بھی بات چیت کریں گے اور اس سے پاکستان کے جو خدشات ہیں امید ہے کہ کچھ حد تک کم ہوں گے “

مبصرین کے خیال میں پاکستان کے اعلیٰ فوجی اور سول حکام کا دورہ امریکہ مستقبل میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی سمت کا تعین کرنے کےلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔