1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی وزارت خزانہ کے نئے سربراہ عبدالحفیظ شیخ

پاکستان کے معروف ماہر اقتصادیات عبدالحفیظ شیخ کو جمعرات کے روز ملکی وزارت خزانہ کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ یہ بات اسلام آباد میں وزیر اعظم گیلانی کے دفتر کی طرف سے بتائی گئی۔

default

وزیر اعظم گیلانی حفیظ شیخ کی نامزدگی کے ذریعے آئی ایم ایف کے طے کردہ اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں

عبدالحفیظ شیخ کی بنیادی ذمہ داری یہ ہو گی کہ وہ ملکی مالیاتی معاملات کو گرفت میں لاتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ IMF کے پاکستان کی مالی حالت میں بہتری سے متعلق طے کردہ اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں۔

شدید مالی مشکلات کے شکار پاکستان میں وزارت خزانہ کے نئے سربراہ حفیظ شیخ ملکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں سے کسی کے بھی منتخب یا کسی مخصوص سیٹ پر نامزد کئے گئے رکن نہیں ہیں۔ اس بنا پر وہ باقاعدہ وزیر خزانہ نامزد نہیں کئے جا سکتے۔

Pakistanischer Präsident General Pervez Musharraf

عبدالحفیظ شیخ مشرف دور میں نج کاری کے وزیر رہ چکے ہیں

اس سلسلے میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دفتر کی طرف سے آج بتایا گیا کہ سرکاری طور پر عبدالحفیظ شیخ کو ملکی سربراہ حکومت کا مالیاتی امور کا مشیر نامزد کیا گیا ہے، نہ کہ باقاعدہ وزیر خزانہ۔

حفیظ شیخ کی نامزدگی سے پاکستان میں قریب تین ہفتے سے جاری وہ بے یقینی ختم ہو گئی ہے، جس کے باعث یہ واضح نہیں تھا کہ شوکت ترین کے مستعفی ہو جانے کے بعد نیا ملکی وزیر خزانہ یا وزارت خزانہ کا نگران کون ہو گا۔ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین فروری میں اس لئے اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے کہ اپنے نجی کاروباری مفادات پر توجہ دے سکیں۔

عبدالحفیظ شیخ ماضی میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں نج کاری کے ملکی وزیر رہ چکے ہیں اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ ملکی اور غیر ملکی مالیاتی منڈیاں پاکستان میں وزارت خزانہ کسی سیاستدان کے بجائے ایک ٹیکنوکریٹ کے حوالے کئے جانے پر اطمینان کا اظہار کریں گی۔

حفیظ شیخ ماضی میں سعودی عرب میں عالمی بینک کے ملکی سربراہ کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بین الاقوامی اقتصادی اور مالیاتی امور میں حفیظ شیخ کا وسیع تر تجربہ پاکستان کے لئے اس کی غیر تسلی بخش مالیاتی صورت حال میں بہتری کے نقطہء نظر سے بہت فائدہ مند ثابت ہو گا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM