1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی نژاد برطانوی بچے ساحل سعیدکی رہائی

بارہ روز قبل اغواء ہونے والے پاکستانی نژاد برطانوی لڑکے ساحل سعید کو پراسرار طور پر آزاد کر دیا گیا ہے۔ پانچ سالہ ساحل کے ایک رشتہ دار راجہ بشارت نے ساحل کی رہائی کی تصدیق کردی ہے۔

default

پاکستانی وزیرِداخلہ رحمان ملک کو شبہ ہے کہ ساحل کے اغواء میں اس کے رشتہ دار ملوث ہیں

پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ساحل کے اغواء میں ایک بین الاقوامی گروہ ملوث ہے اور یہ کہ دوسرے ممالک کی مدد سے اس گروہ کے ارکان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم رانا ثنا اللہ نے اُن کوششوں کی تفصیلات نہیں بتائی، جووزیرِ قانون کے مطابق اس گروہ کو پکڑنے کے لئے کی جارہی ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اغواء کی اس واردات میں ساحل کے کچھ رشتہ دار ملوث ہوسکتے ہیں۔ اُن کے اس بیان کو برطانوی ذرائع ابلاغ نے نمایاں جگہ دی۔ رحمان ملک نےکہا ہے کہ اولڈہم سے تعلق رکھنے والے اس لڑکے کو آج اس کے گھر والوں یا ذمہ دار افراد کے حوالے کردیا جائے گا کیونکہ ساحل کے والد پاکستان میں موجود نہیں ہیں۔

Selbstmordattentat in Pakistan

پولیس کے مطابق ملزمان نے ساحل کی رہائی کے لئے بھاری تعاون کا مطالبہ کیا تھا

رحمان ملک کے بیان کے برعکس ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی اسلم ترین کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ اس اغواء میں ساحل کے رشتہ دار بھی ملوث تھے۔ اسلم ترین نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ ساحل کی رہائی کے لئے کوئی تاوان دیا گیا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے کو برطانوی ہائی کمیشن کے حوالے کیا جائے گا، جہاں والدین کے آنے تک اس کی دیکھ بھال ہائی کمیشن کرے گا۔

جہلم پولیس کے مطابق اغوا کاروں نے ساحل کو اغواء کرنے سے پہلے گھر والوں کو کئی گھنٹے تک اسلحے کے زور پر یرغمال بنا ئے رکھا۔ ساحل کو اغواء کرنے سے پہلے انہوں نے گھر والوں کو ڈیڑھ لاکھ روپے اور زیورات سے بھی محروم کردیا اور بعد میں دس ملین روپے کے تاوان کا مطالبہ کیا۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنرایڈم تھامس نے اس رہائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ نے اس مسئلے پر اعلی سطح پرتعاون کیا اور یہ تعاون قابلِ تعریف ہے۔

پاکستانی پولیس کے مطابق ملک میں اغواء برائے تاوان کی کئی وارداتوں میں طالبان عسکریت پسند ملوث رہے ہیں تاہم ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں، جن کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ اس واردات میں بھی طالبان ملوث ہیں۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: عاطف بلوچ