1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی نژاد امریکی شہری کا اعتراف جرم

امریکہ میں گرفتار ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری نے جوہری آلات کی غیر قانونی برآمد کے منصوبے میں ملوث ہونے کا الزام قبول کر لیا ہے۔ عدالتی حکام کے مطابق وہ یہ آلات پاکستان بھیجتا رہا ہے۔

default

پاکستانی نژاد 45 سالہ امریکی شہری ندیم اختر کو پاکستان میں حکومتی ایجنسیوں سمیت اپنے گاہکوں کو ممنوعہ آلات مہیا کرنے پر پانچ سال قید اور ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا کا سامنا ہے۔

اس نے تابکاری کا پتہ چلانے والے آلات سمیت مختلف اشیا کے حصول کے لیے کمپیوٹر کمیونیکیشن یو ایس اے نامی اپنی کمپنی کا استعمال کیا۔ ایسے آلات کی قانونی برآمد کے لیے لائسنس درکار ہوتا ہے۔

میری لینڈ ڈسٹرکٹ کے اٹارنی Rod Rosenstein کا کہنا ہے: ’’اختر نے برآمدات کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے لیے سازش کی۔ اس نے سخت ضابطوں کے تحت آنے والے آلات فروخت کرتے ہوئے امریکی حکام کو غلط اطلاعات فراہم کیں اور خریداروں کے بارے میں بھی نہیں بتایا۔‘‘

ندیم اختر واشنگٹن کے نواح میں میری لینڈ کے علاقے سلور اسپرنگ کا رہنے والا ہے۔ اسے رواں برس مارچ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت امریکی  محکمہ انصاف کا کہنا تھا  کہ وہ جن آلات کی غیرقانونی برآمد میں ملوث رہا، انہیں نیوکلیئر ری ایکٹرز میں استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ ان کی مدد سے جوہری مواد بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔

Karte Grenzregion Pakistan Afghanistan - Urdu

ندیم اختر نے جوہری آلات پاکستان میں گاہکوں کو فراہم کیے، حکام

بتایا گیا کہ اس نے اپنے ایک معاون کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ 2005ء کے آخر میں شروع کیا، جو گزشتہ برس مارچ تک جاری رہا، جس کے تحت انہوں نے زیادہ تر ممنوعہ اشیاء 2005ء اور 2008ء کے درمیان برآمد کیں۔

ندیم اختر پر عائد کیے گئے الزامات میں کہا گیا کہ اس نے اپنے ایک ساتھی، جس کا نام نہیں بتایا گیا، کے لیے کام کیا، جو پاکستان کے سرکاری اداروں کے ساتھ کاروباری روابط رکھتا تھا اور اس نے یہ اشیاء امریکہ اور دیگر ممالک سے حاصل کیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ اس شخص نے پاکستان اور دبئی سے امریکہ کے بینک اکاؤنٹس میں رقوم ٹرانسفر کیں۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس