1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی میڈیا میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات

پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے ’پی ٹی وی‘ کے ڈائریکٹر نیوز کو مبینہ طور پر خواتین کو ہراساں کرنے کے الزام میں ان کو عارضی طور پر عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ خواتین کو ہراساں کیا جانا کتنا بڑا مسئلہ ہے، ڈی ڈبلیو رپورٹ؟

پاکستان کی میڈیا انڈسٹری بے شمار نیوز چینلز پر مشتمل ہے۔ ان نیوز چینلز میں نہ صرف مرد بلکہ خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد کام کر رہی ہے۔ حال ہی میں ایک واقعے نے پاکستانی میڈیا میں خواتین کے ساتھ متعصبانہ سلوک کے حوالے سے ایک بحث کا آعاز کر دیا ہے۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوزاطہر فاروق بھٹر کے خلاف پی ٹی وی کی چھ خاتون نیوز کاسٹرز نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا کیس درج کیا ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹر نیوز پر خواتین کی تذلیل کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

جیو نیوز چینل سے وابستہ فرحت جاوید ربانی نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ ابھی یہ ابتدائی فیصلہ ہے اور باقاعدہ تفتیش ہونا باقی ہے۔

فرحت جاوید کے مطابق اس شخص کو عہدے سے ہٹانا ضروری تھا تاکہ وہ انکوائری پر اثرانداز نہ ہو سکے، جیسا کہ پاکستان میں عام طور پر ہوتا ہے۔ ’’اس لیے تفتیش کی تکمیل تک بھٹر کو عہدے سے ہٹایا جانا ایک مثبت عمل ہے، جس سے اس کے ساتھیوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی۔‘‘

Pakistan Journalistin Maha Mussadaq

ماہا مصدق گزشتہ سات برسوں سے پاکستان کی میڈیا انڈسٹری سے وابستہ ہیں

تحفظ کے احساس کی ضرورت

ایک بڑے میڈیا ادارے سے وابستہ سارہ حسن نے بھی اس فیصلے کو ایک مثبت اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’نیوز چینلز چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔ خواتین کو دفتر میں تحفظ کا احساس دلایا جانا ضروری ہے۔‘‘ سارہ مزید کہتی ہیں کہ پاکستان ایک قدامت پسند معاشرہ ہے اور اب بھی خواتین کا دفتروں میں کام کرنا آسان نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اطہر فاروق بھٹر کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی کو جنسی طور پر ہراساں نہیں کیا بلکہ ذاتی دشمنی کے باعث ان پرالزامات عائد کیے گئے ہیں۔

فرحت کہتی ہیں کہ اگر کوئی خاتون ہراساں کیے جانے پر رپورٹ درج بھی کرا دے تو اسے کیریئر ختم کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور اس کے خلاف اسکرین اپیئرنس پر پابندی سمیت انتہائی اقدام اٹھائے جاتے ہیں۔ نجی محفلوں میں اس کی کردار کشی بھی کی جاتی ہے۔ ’’افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسی صورت میں دیگر خواتین بھی اس کا ساتھ دینے کی بجائے مزید مشکلات کھڑی کرنے میں سرگرم ہو جاتی ہیں اور کبھی کبھی سوشل میڈیا پر شرم ناک مہم شروع کر دی جاتی ہے۔‘‘

فرحت نے ایک مثال دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’حال ہی میں ایک نیوز ادارے میں کام کرنے والے ایک شخص پر وفاقی محتسب کے سامنے ہراساں کیا جانے کا لزام ثابت ہوا، مگر ادارے نے اسے سزا دینے کہ بجائے ترقی دے دی۔ کیا ایسی مثال قائم کر کے ہم امید رکھیں کہ ان قوانین کا نفاذ پوری طرح ہو سکے گا ؟ میرے خیال میں یہ ہرگز ممکن نہیں۔‘‘

قانون ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں

سن 2010 میں کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے ایکٹ تو آگیا اور کچھ اداروں میں کمیٹیاں بھی بنائی گئیں لیکن عام تاثر یہی ہے کہ یہ کمیٹیاں عملی طور پر کچھ نہیں کر رہیں۔

فرحت بتاتی ہیں کہ اس وقت بھی وفاقی محتسب کے پاس جانے والے 95 فیصد کیسز ان کمیٹیوں سے ناکام ہو کر جاتے ہیں۔

’ہیلو پاکستان‘ جریدے کی ایڈیٹر ماہا مصدق کہتی ہیں کہ وہ گزشتہ سات برسوں سے پاکستان کی میڈیا انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور اس دوران انہوں نے کئی خواتین کو ہراساں کیے جانے سے متعلق مسائل کا سامنا کرتے دیکھا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستان کے کسی بھی چینل یا اخبار کے نیوز روم میں مردوں کی تعداد خواتین سے کہیں زیادہ ہے۔ نوجوان مرد صحافیوں کی سوچ تبدیل تو ہو رہی ہے لیکن تبدیلی تب تک نہیں آئے گی جب تک یہ سوچ عام نہیں ہوگی کہ خواتین بھی مرد ہی کی طرح کام کر سکتی ہیں۔‘‘

Pakistani journalist Farhat Javed Rabbani

فرحت کہتی ہیں کہ اگر کوئی خاتون ہراساں کیے جانے پر رپورٹ درج بھی کرا دے تو اسے کیریئر ختم کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں

خواتین بھی سنجیدہ صحافت کر سکتی ہیں

عام طور پر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ خواتین میڈیا اداروں میں اہم عہدوں پر تعینات نہیں ہیں لہٰذا وہ فیصلہ سازی میں بھی شامل نہیں ہوتیں۔ اس حوالے سے ماہا کہتی ہیں، ’’خواتین رپورٹرز کو اکثر فیشن، ثفات یا صحت کے شعبے میں رپورٹنگ کی ذمے داری دی جاتی ہے۔ انہیں کم ہی سنجیدہ اور نیوز کے اعتبار سے اہم موضوعات کی رپورٹنگ کی ذمے داری دی جاتی ہے۔‘‘

اکثر خاتون صحافیوں کا کہنا ہے کہ کام کی جگہ پر صحت مند ماحول خواتین کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کے لیے انہیں عدالتوں میں جانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آنی چاہئیے۔

DW.COM