1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پاکستانی مہاجرین کے اسمگلر پر یونانی پولیس کی فائرنگ

یونانی پولیس نے ملک کے شمالی حصے میں دس پاکستانیوں کو اسمگل کرنے کی کوشش کرنے والے انسانوں کے ایک مشتبہ اسمگلر کو گولی مار دی ہے۔

حکام کے مطابق یہ اسمگلر دس پاکستانی تارکین وطن کو ایک وین کے ذریعے اسمگل کرنے کی کوشش میں تھا اور پولیس کی جانب سے رکنے کے اشارے نظرانداز کرنے پر اس پر فائرنگ کی گئی۔ حکام کے مطابق ہائی وے پر اس وین کا پیچھا کیا گیا اور بلآخر یہ وین ایک حادثے کا شکار ہو کر رکی۔

یونان سے واپس جانے والے پاکستانی مہاجرین کی مالی مدد

مہاجرین حراستی مرکز میں ہی کیوں رہنا چاہتے ہیں؟

مہاجرین کے لیے چوبیس گھنٹے کی مہلت

پولیس کے مطابق وین کا ڈرائیور ایک 22 سالہ ملزم تھا، جو پیر کے روز 10 پاکستانی تارکین وطن کو گاڑی میں سوار کر کے لے جا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق اہلکاروں کی جانب سے رکنے کے اشارے نظر انداز کرنے پر گاڑی کا پیچھا کیا گیا اور پھر موٹر وے پر یہ گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی۔

پولیس بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس ملزم کی جانب سے اہلکاروں پر حملے اور ہینڈگن پکڑنے کی کوشش کے دوران اس پر گولی چلائی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران اس ملزم کے بازو اور کولہے پر گولی لگی ہے اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے میں چند تارکین وطن کو معمولی چوٹیں بھی آئی ہیں۔

حالیہ کچھ عرصے میں ایک مرتبہ پھر ترکی سے یونان پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں کسی حد تک اضافہ ہوا ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ سن 2015ء کے وسط میں ترکی سے سمندری راستوں کے ذریعے قریب ایک ملین تارکین وطن چند ہی ماہ میں یورپی یونین میں داخل  ہوئے تھے۔

مہاجرین کے اسی بہاؤ کی روک تھام کے لیے یورپی یونین اور ترکی کے درمیان مارچ 2016 میں معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت انقرہ حکومت کو پابند بنایا گیا تھا کہ وہ اپنے ہاں سے مہاجرین کو بحیرہء ایجیئن عبور کر کے یورپ پہنچنے سے روکے۔ اس کے عوض ترکی کی مالی اعانت کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات کے وعدے کیے گئے تھے۔

ویڈیو دیکھیے 02:22

پاکستان محفوظ ملک نہیں، پاکستانی مہاجر

اس معاہدے کے بعد اس راستے سے یورپ پہنچنے والی تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم حکام کے مطابق اب پھر تارکین وطن اسی راستے کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic