1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستانی معیشت میں مثبت پیش رفت کے اشارے

پاکستان حکومت خوش ہیں کہ ورلڈ اکنامک فورم کے دوران پیش کی جانے والی آئی ڈی آئی رپورٹ میں 79 ترقی پذیر معیشتوں میں سے پاکستان باون ویں نمبر پر ہے۔ تاہم ناقدین کے خیال میں پاکستانی معیشت میں سب اچھا ہے کی خبر درست نہیں۔

ورلڈ اکناملک فورم ( ڈبلیو ای ایف) کے دوران جامع ڈیویلپمنٹ انڈکس (آئی ڈی آئی) نامی اس رپورٹ میں پاکستان کے روایتی حریف بھارت کا نمبر ساٹھ واں ہے۔ تاہم ناقدین ان خبروں پر محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور ان کی نظر میں معیشت میں کوئی بڑی بہتری نہیں آ رہی۔ پاکستان کے سا بق وزیرِ خزانہ اور معروف معیشت دان ڈاکڑ مبشر حسن نے ان خبروں کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ملکی قرضوں کا حجم دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ زرعی پیداوار میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے۔ صنعتی شعبہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ روپےکی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ سارے معاشی اشارے اس بات کے مظہر ہیں کہ معیشت خرابی کی طرف جارہی ہے۔ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں یہ بہتر ہو رہی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر گرانے سے معیشت میں مزید خرابی پیدا ہوگی،’’ظاہر ہے اگر ہم ابھی کوئی چیز سو روپے کی لے رہے ہیں تو روپے کی قدر گرانے کے بعد ہمیں یہ مہنگی پڑے گی۔ اس کی وجہ سے ہمارے قرضے بھی بڑھ جائیں گے اور مزدوروں کی اجرت مزید کم ہو جائے گی۔‘‘
معروف مالیاتی امور کے ماہر سلمان شاہ ناقدین کی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان کی معیشت میں سب کچھ اچھا نہیں ہے۔ معاشی صورتِ حال پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’یہ صحیح ہے کہ آئی ایم ایف سے ہمار ا پروگرام ختم ہوگیا ہے لیکن ہمارے ہاں اصلاحات نہیں ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے ملک کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ اس شعبے میں مسابقت کی کمی ہے۔ دنیا میں اگر چار روپے بجلی فی یونٹ بن رہی ہے تو ہمارے یہاں اس کی لاگت دس روپے فی یونٹ ہے۔ اس صورت میں آپ کی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کیسے کر پائیں گی۔ اسی طرح اگر دنیا میں آٹا سات سو روپے فی من ہے، تو ہمارے ہاں وہ بارہ سو روپے فی من ہے۔ تو ہمیں مسابقت کے لئے اصلاحات کرنی پڑیں گی۔ آپ دیکھیں ٹیلی کام کے شعبے میں مقابلہ ہے تو وہاں قیمتیں گرتی ہیں لیکن انرجی میں کوئی مقابلہ نہیں اس لئے بجلی کی قیمت اس طرح نہیں گرتی۔‘‘

Hafen von Gwadar Pakistan (BEHRAM BALOCH/AFP/Getty Images)

سی پیک کی وجہ سے ملک میں معاشی سرگرمیاں بڑھی ہیں


انہوں نے کہا معیشت کو بہتر کرنے کے لئے زراعت کے شعبے کو پروٹیکٹ کیا جائے، ٹیکس اصلاحات کی جائیں اور پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔
لیکن نون لیگ ان تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے، اس بات کا دعویٰ کرتی ہے کہ ملک کی معاشی حالت پہلے کے مقابلے میں اب بہت بہتر ہے۔ اس حوالے سے ن لیگ کی رہنما عظمیٰ بخاری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ناقدین اور حزبِ اختلاف کا کام تنقید کرنا ہے لیکن انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو ملک پر پہلے ہی بہت قرض تھا۔ اس کے علاوہ گردشی قرضوں کا بھی بوجھ تھا۔ ہم نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئی ایم ایف کے پروگرام کو اتنی جلد مکمل کیا۔ ملک میں آنے والی سرمایہ کاری، اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی رپورٹیں اس بات کی مظہر ہیں کہ پاکستان کی معیشت بہتر ٹریک پر جا رہی ہے اور انشاء اللہ سی پیک کی وجہ سے ملک میں مزید سرمایہ کاری ہوگی اور بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔‘‘
کئی صنعت کار بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔ ٹیکسٹائل و رئیل اسٹیٹ کی معروف شخصیت احمد چنائے بھی معیشت میں بہتری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں تمام شعبوں میں بہتر ی آ رہی ہے۔  حکومت کچھ رعایات دینے کا اعلان کرنے جا رہی ہے، اس سے بھی ملک میں اربوں ڈالرز واپس آسکتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ پاکستانی دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ اس کے علاوہ بھی لوگوں کے دنیا کے کئی ممالک میں پیسے اور اثاثے ہیں۔ وہ اس کو ظاہر کر دیں گے اور  پانچ یا دس فیصد اس پر حکومت کو ٹیکس دے دیں گے لیکن اس سے بڑے پیمانے پر پیسہ پاکستان میں آسکتا ہے، جس سے معیشت کو فائدہ ہوگا۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ایکسپورٹ پوری دنیا میں گر رہیں ہیں کیونکہ عالمی معیشت بحران کا شکار ہے۔ تو اس کا حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ بھارت اور بنگلہ دیش سبسیڈیز دے کر اپنی ایکسپورٹ کو سہارا دے رہے ہیں اور اب پاکستان نے بھی ٹیکسٹائل سمیت کچھ صنعتوں کے لئے پیکیج کا اعلان کیا ہے، تو ایکسپورٹ کا کم ہونا ایک مختلف بات ہے۔‘‘